Categories
Breaking news

2020 میں دنیا کو خیرباد کہنے والی اسپورٹس شخصیات

رواں سال جہاں عالمی وبا نے تمام شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا وہیں دنیا بھر میں کھیلوں کی سرگرمیاں بھی خوب متاثر ہوئیں۔لیکن اس سال کھیلوں سے وابستہ کئی شخصیات نے بھی اپنی زندگی آخری سانس لی اور مداحوں کو غمزدہ کر گئے۔رواں برس دنیا سے کوچ کرجانے والے کھلاڑیوں میں آسٹریلوی کرکٹر ڈین جونز، عظیم فٹبالر ڈیاگو میراڈونا، پاکستان ہاکی ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی رشید جونئیر اور اولین پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑ ی وقار حسن بھی شامل تھے۔
وہ اسپورٹس شخصیات جن کیلئے رواں سال آخری سال ثابت ہوا
کوبے برائنٹ، 26 جنوری
رواں سال کا آغاز ہی افسوس ناک خبر سے ہوا۔ جب 41 سالہ امریکی باسکٹ بال اسٹار اور سابق کھلاڑی کوبے برائنٹ اور ان کی 13سالہ بیٹی جیانا ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے۔کوبے برائنٹ نے اپنے کریئر کے دوران امریکہ کی نمائندگی تو کی ہی لیکن ان کی وجہ شہرت امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس کی ٹیم ‘لاس اینجلس لیکرز’ کے ساتھ کریئر تھا۔ جس کے دوران انہوں نے کئی فتوحات اپنے نام کیں۔
وقار حسن، 10 فروری
پاکستان کے لیے اولین ٹیسٹ میچ کھیلنے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر وقار حسن بھی سال کے آغاز میں دنیا چھوڑ گئے۔انہوں نے پاکستان کی جانب سے 1952 میں بھارت کے خلاف پہلا ٹیسٹ کھیلا تھا۔ 87 سالہ کرکٹر نے 21 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی۔وقار حسن نے ایک سینچری اور چھ نصف سنچریوں کی مدد سے ٹیسٹ کرکٹ میں ایک ہزار رنز کا سنگِ میل بھی عبور کیا۔
اسد ملک، 28 جولائی
78 برس کی عمر میں دارِ فانی سے کوچ کرنے والے اسد ملک کا شمار پاکستان کے چند بہترین لیفٹ ان میں ہوتا ہے جو حریف ٹیموں کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھے جاتے تھے۔اسد ملک کی اپنے ونگرز کے ساتھ ہم آہنگی دیکھنے والوں کو بہترین کھیل فراہم کرتی تھی۔ ان کے پاسز ساتھی کھلاڑیوں کو گول کرنے کے خوبصورت مواقع فراہم کرتے تھے۔پاکستان کے محکمہ ڈاک نے 1968 کے میکسیکو اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے کے موقع پر 15 پیسے اور ایک روپے مالیت کا خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا جس پر اسد ملک کا تاریخی انداز محفوظ کیا گیا۔اسد ملک نے ایشین گیمز میں دو گولڈ کے علاوہ ایک سلور میڈل بھی جیتا۔ 1962 کی جکارتہ ایشین گیمز میں پاکستانی ٹیم نے گولڈ میڈل جیتا تھا جس میں اسد ملک بھی شریک تھے۔
ڈین جونز، 24 ستمبر
سابق آسٹریلوی بلے باز اور معروف کرکٹ کمنٹیٹر ڈین جونز 59 سال کی عمر میں بھارتی شہر ممبئی میں انتقال کر گئے۔ جہاں وہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں کمنٹری کے لیے موجود تھے۔52 ٹیسٹ اور 164 ون ڈے میچز میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے والے ڈین جونز 1987 میں ورلڈ کپ جیتنے والی آسٹریلوی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔وہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں بھی کوچنگ کے فرائض انجام دے چکے تھے۔ان کی وفات کے بعد ان کی ٹیم ‘کراچی کنگز’ نے پہلی بار ٹائٹل اپنے نام کر کے یہ اعزاز ان سے منسوب کیا۔
ماہم آفتاب، 23 اکتوبر
کینسر میں مبتلا پاکستان کی پہلی انٹرنیشنل تائیکوانڈو اولمپئن ماہم آفتاب انتقال کر گئیں۔26 سالہ ماہم آفتاب نے نیشنل و انٹرنیشل سطح پر تائیکوانڈو میں پاکستان کی نمائندگی کی، انہیں ’دختر وہاڑی‘ کے لقب سے پکارا جاتا تھاتائیکوانڈو چیمپئن ماہم آفتاب برین ٹیومر کے مرض میں مبتلا تھیں اور گزشتہ چار ماہ سے اسپتال میں زیر علاج تھیں۔ ماہم آفتاب پاکستان آرمی کی جانب سے بھی تائیکوانڈو کھیلتی تھیں۔
رشید الحسن جونیئر، 5 نومبر
سن 1968 اور 1972 کے اولمپک گیمز میں ٹاپ اسکورر رہنے اور 1984 میں پاکستان کو آخری بار اولمپکس میں سونے کا تمغہ جتوانے والے رشید جونیئر بھی رواں سال انتقال کرگئے۔وہ 79 سال کی عمر میں مختصر علالت کے بعد اسلام آباد میں چل بسے۔وہ اولین ورلڈکپ جیتنے والی ٹیم کے رکن تو تھے ہی، جب انہوں نے کھیل کو خیرباد کہا تو اس وقت سب سے زیادہ 96 گول اسکور کر چکے تھے۔ کسی اور پاکستانی کھلاڑی نے اتنے گول اسکور نہیں کر رکھے تھے۔
طاہرہ حمید، 7 نومبر
پاکستان میں خواتین کرکٹ کی بانی طاہرہ حمید 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔طاہرہ حمید کو پاکستان کی پہلی نامور خاتون ایتھیلٹ سمجھا جاتا ہے، 1955میں طاہرہ حمید نے کلکتہ میں ایشیائی ٹینس چمپیئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔طاہرہ حمید نے ومبلڈن ٹینس میں بھی 1952اور1956دو بار پاکستان کی نمائندگی کی۔
ڈیاگو میراڈونا، 25 نومبر
دنیائے فٹبال کے عظیم کھلاڑی اور ارجنٹائن کو 1986 میں ورلڈ کپ جتوانے والے ڈیاگو میراڈونا رواں سال حرکتِ قلب بند ہو جانے کے باعث انتقال کر گئے۔60 سالہ فٹ بالر نے 1986 میں ٹیم کو ورلڈ کپ میں کامیابی دلائی جب کہ انہی کی قیادت میں چار سال بعد ارجنٹائن کی ٹیم ورلڈ کپ فائنل میں پہنچنے میں بھی کامیاب رہی۔
شاہد محمود، 13 دسمبر
پاکستان کی انٹرنیشنل لیول پر نمائندگی کرنے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر شاہد محمود امریکی ریاست نیو جرسی میں انتقال کر گئے۔81 سالہ آل راؤنڈر نے اپنا واحد ٹیسٹ میچ 1962 میں انگلینڈ کے خلاف ناٹنگھم کے مقام پر کھیلا تھا۔وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میچ کی ایک ہی اننگز میں 10 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

Advertisement
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *