Categories
Breaking news

14 سیکنڈز کی تاخیر، کانیے ویسٹ انتخابی دوڑ سے باہر

Advertisement

کانیے ویسٹ معروف امریکی ریپر، گلوکار، پروڈیوسر اور آنے والے امریکی صدارتی انتخابات کے آزاد امیدوار 43 سالہ کانیے ویسٹ کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں 14 سیکنڈز کی تاخیر کی وجہ سے ایک ریاست میں انتخابی دوڑ سے باہر ہوگئے۔

Advertisement
Advertisement
www.idgod.ph

کانیے ویسٹ نے گزشتہ ماہ 5 جولائی کو اچانک صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔

ماضی میں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایتی رہے تھے تاہم اس بار انہوں نے ان کی حمایت ختم کرکے خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔

کانیے ویسٹ نے گزشتہ ماہ 16 جولائی کو سب سے پہلے ریاست اوکلاہاما سے نامزدگی فارم حاصل کیے تھے۔

جس کے چند دن بعد انہوں نے ریاست جنوبی کیرولینا کے چارلسٹن شہر سے 20 جولائی کو انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا۔

ریاست یوٹاہ سے قبل کانیے ویسٹ نے اوکلاہاما، آرکنساس اور کولاراڈو سے بھی نامزدگی فارم حاصل کرلیے ہیں اور خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ مزید چند ریاستوں سے نامزدگی فارم حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

تاہم رواں ماہ کے اوائل میں ریاستی الیکشن کمیشن میں ووٹرز کے ایک گروپ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ کانیے ویسٹ کی انتخابی کی مہم کے ورکرز 4 اگست کو آزاد صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے آخری روز وسکونسن کے 2 ہزار ووٹرز کے مطلوبہ 2 ہزار دستخط جمع کرانے کے لیے شام 5 بجے کی ڈیڈلائن پر پورا نہیں اترے تھے۔

اے پی کی رپورٹ کے مطابق کمیشن میں سماعت کے دوران کانیے ویسٹ کی مہم کے اٹارنی مائیکل کران نے کہا تھا کہ انتخابی مہم کے ورکرز شام 5 بجنے کے 14 سیکنڈز گزرنے کے بعد کمیشن کی عمارت میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن عملے نے ان کے کاغذات قبول کیے تھے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے عملے کے رکن کوڈی ڈیویز نے پینل کو بتایا کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے عمارت میں تالے لگے ہوئے تھے لیکن 5 بجے تک کاغذات جمع کروانے والے افراد کے لیے وہ لابی میں انتظار کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کانیے ویسٹ کے نمائندوں نے انہیں 4 بج کر 57 منٹ پر کال کی تھی اور بتایا تھا کہ وہ 5 منٹ کی دوری پر ہیں اور 5 بجنے کے 14 سیکنڈز کے بعد امریکی گلوکار کے نمائندے پہنچے تھے ور انہوں نے کمیشن کے دفاتر تک جانے کے لیے انہیں لفٹ تک چھوڑا تھا۔

کوڈی ڈیویز نے بتایا تھا کہ کانیے ویسٹ کے نمائندوں کا گروہ 5 بجنے کے بعد 50 سیکنڈز تک لفٹ میں موجود تھا۔

کمیشن کے ایک اور رکن ریلے ول مین نے کہا کہ وہ کاغذات نامزدگی قبول کرنے کے لیے موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ کانیے ویسٹ کے نمائندوں نے 5 بج کر ایک منٹ گزرنے کے بعد کاؤنٹر پر رکھے تھے لیکن انہیں منظم کرنا تھا اور 5 بجنے کے کئی منٹ بعد بھی انہوں نے کاغذات نہیں اٹھائے تھے۔

جس کے بعد کمیشن نے کانیے ویسٹ اور ان کے ساتھی مشیل ٹڈ بال کو 1-5 ووٹ سے انتخابی دوڑ سے باہر کردیا، اسپنڈیل واحد کمشنر تھے جنہوں نے امریکی گلوکار کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی تھی۔

کمشنر رابرٹ اسپنڈیل جو ایک ری پبلکن نے پینل کو انہیں شک کا فائدہ دینے کا کہا تھا کہ عالمی وبا نے زندگی مشکل بنادی ہے اور اگر عمارت کے دروازے کھلے ہوتے تو وہ شاید وقت پر پہنچ جاتے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ڈیموکریٹ غیرمنصفانہ طور پر سیاہ فام امیدوار کو انتخابی دوڑ سے دور رکھنا چاہتے ہیں اور کمیشن کو سیاہ فام ووٹرز کو موقع دینا چاہیے۔

رابرٹ اسپنڈیل نے کہا تھا ہم سیکنڈز کے معاملے پر بات کررہے ہیں لیکن کمیشن کے دیگر اراکین نے کہا کامن سینس کے مطابق شام 5 بجے کا مطلب شام 5 بجے ہے 5 بج کر 14 سیکنڈ نہیں۔

تاہم کانیے ویسٹ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا میں رواں برس تین نومبر کو 46 ویں صدر کے لیے انتخابات ہوں گے۔

اگرچہ نئے صدر کے لیے کانٹے کا مقابلہ ریپبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے جوبائیڈن کے درمیان ہوگا۔

تاہم مذکورہ دونوں امیدواروں اور کانیے ویسٹ کے علاوہ بھی دیگر چھوٹی سیاسی جماعتوں کے امیدواروں سمیت آزاد امیدوار بھی انتخابی میدان میں اتریں گے۔

تمام صدارتی امیدواروں نے انتخابی مہم کا آغاز کر رکھا ہے اور متعدد شہروں میں جلسوں اور کانفرنسز میں خطاب کرتے ہوئے اپنی پالیسی کو عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *