Categories
Breaking news

یہ معاہدہ جب ہوا تو اس میں ایسی کوئی شق نہیں تھی، متحدہ عرب امارات کے اعتراف نے عالمِ اسلام کو چونکا دیا

Advertisement
Advertisement

اسرائیل، امریکا ااور دبئی متحدہ عرب امارات کے وزرا نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے پاس ایسی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ مستقبل میں اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو ضم نہیں کرے گا۔

معاون وزیر برائے امور خارجہ عمر قرقاش نے بتایا کہ ٹرمپ نے جس حیرت انگیز معاہدے کا اعلان کیا تھا اس میں ایسی کوئی شرائط نہیں رکھی گئی ہیں اور نہ ہی یہ معاہدہ پتھر پر کوئی لکیر ہے۔

متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لاتے۔ اس معاہدے کے باوجود اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے جیسے علاقوں پر اپنی خودمختاری کے دعوے کے اعلان کو صرف ’معطل‘ کر رہا ہے۔

غزہ پر کنٹرول رکھنے والی جماعت حماس نے اسے فلسطین کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا عمل قرار دیا ہے جب کہ صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے۔

عمر قرقاش نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایک خود مختار ریاست ہے جیسے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے لیے فلسطینیوں کی شرائط کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے اسرائیل کی توسیع پسندی کو معطل کر دیا گیا ہے جس سے دونوں فریقین کو امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملے گا۔ جو کئی بار ناکام ہو چکے ہیں، اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی بحالی کے لیے کسی اور عرب ملک نے کوئی اقدام نہیں کیے۔ درحقیقت یہ امارات کے ہی قائدین ہیں جنہوں نے یہ نہایت جرات مندانہ اور اہم قدم اٹھایا ہے۔

پورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور گرگش نے معاہدے کو پورے خطے کے لیے جیت قرار دیا اور ایک تحریری بیان میں انہوں نے اسے ’امید کی کرن‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس معاہدے کو اسرائیلیوں کی طرف سے (مقبوضہ علاقوں) کو ضم کرنے کے عمل میں وقفے کی بجائے اسے روکنے کے عزم کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور ہم توقع کرتے ہیں کہ مذاکرات اور تعاون سے فلسطین اور اسرائیل تنازع کے پائیدار حل کے لیے سازگار حالات پیدا ہوں گے لیکن عمر قرقاش کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے، یہ محض ہمارا گمان ہے، ہم نے (اسرائیل پر) اعتماد قائم کیا ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *