Categories
Breaking news

یو اے ای کے نئے لیبر قانون میں کون سی اہم شرائط رکھی گئی ہیں؟ جانیے تفصیل

متحدہ عرب امارات میں نیا لیبر قانون بنایا گیا، 3 سالہ معاہدے پر مبنی یہ قانون آئندہ ماہ 2 فروری 2022 سے نافذالعمل ہوگامتحدہ عرب امارات میں نیا لیبر قانون بنایا گیا، 3 سالہ معاہدے پر مبنی یہ قانون آئندہ ماہ 2 فروری 2022 سے نافذالعمل ہوگا۔ کام کے اوقات 8 گھنٹے فی دن یا 48 گھنٹے فی ہفتہ ہوسکتے ہیں۔

خلیجی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق یو اے ای کی حکومت نے ملک میں کام کے معیاری عمومی قوانین پر گزشتہ سال ایک وفاقی حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت سرکاری اور نجی ملازمین کو کام کرنے کے لیے یکساں ماحول اور سہولیات حاصل ہوں گی، جن میں مساوات، غیرامتیازی سلوک، ورک ماڈل، کام کے یکساں اوقات، چھٹی اور ملازمت کے اختتامی فوائد کی ادائیگی شامل ہے۔

یہ قانون آئندہ ماہ 2 فروری 2022 سے نافذالعمل ہوگا۔

نئے قانون کے آرٹیکل 7 میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین دونوں کے کام کے اوقات ایک جیسے ہوں گے، تاہم کچھ نجی سیکٹر فرموں کے کام کے اوقات میں اضافہ یا کمی ہوسکتی ہے جو وزارت انسانی وسائل اور امارات کی منظوری سے مشروط ہے۔

کام کے اوقات 8 گھنٹے فی دن یا 48 گھنٹے فی ہفتہ ہوسکتے ہیں، ہفتے میں ایک دن ہفتہ وار تعطیل ہوگی جس میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

نئے لیبر قانون کے مطابق سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین دونوں کے لیے سالانہ، زچگی، ولدیت، بیماری، مطالعہ اور سوگ کی چھٹیاں وہی ہیں جو یو اے ای کے کام کے نئے اسٹینڈرڈ رولز کے آرٹیکل 9 میں بتائی گئی ہیں۔

قانون کا آرٹیکل 11 سرکاری اور نجی سیکٹر کے ملازمین کے لیے سروس فوائد (گریجویٹی) کے حساب کتاب کے ایک ہی طریقہ پر بھی زور دیتا ہے۔

نئے لیبر قانون میں ملازمت کا معاہدہ 3 سال سے زائد نہیں ہوسکتا۔

فی الحال سرکاری اور زیادہ تر فری زون ملازمین سے 3 سال کی ملازمت کا معاہدہ کیا جارہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *