Categories
Breaking news

یونیورسٹی آف پٹس برگ اسکول آف میڈیسن کی نئی تحقیق؛ اب نفسیاتی صحت کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکے گا

Advertisement
Advertisement

نفسیاتی صحت پر نئی تحقیق

یونیورسٹی آف پٹس برگ اسکول آف میڈیسن کے نفسیاتی ماہرین نے ایک دلچسپ تحقیق پیش کی ہے کہ کسی بھی شخص کی جانب جذبات اور احساسات بھرے الفاظ اور تحریر کو دیکھتے ہوئے اس کی دماغی، جسمانی اور نفسیاتی صحت کا اندازہ باخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

یعنی اگر آپ اپنی گفتگو میں کسی صورتحال کو بیان کرنے کے لیے احساسات اور جذبات کے لیے منفی الفاظ استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کی جسمانی اور دماغی صحت کی ناسازی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف پٹس برگ اسکول آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے کی ہے اور اس کی تفصیلات نیچر میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔

دوسری جانب اگر آپ کی گفتگو مثبت جذبات کے الفاظ اور احساسات سے بھرپور ہے تو یہ اچھی دماغی اور جسمانی صحت کی علامت ہے۔

یعنی کسی کے منفی الفاظ اس سے مثبت جذباتی صحت کو ظاہر کرتے ہیں جو ایک تندرست دماغ کی علامت بھی ہے۔

یونیورسٹی آف پٹس برگ سے وابستہ پی ایچ ڈی طالبہ ویرا وائن نے کہا کہ ہماری زبان سے ادا ہونے والے الفاظ ہمارے جذبات کو ظاہر کرتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہم اپنے احساسات کا اظہار کئی طرح سے کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے انہوں نے 35 ہزار بلاگ کا جائزہ لیا اور 1500 سے زائد طالبعلموں کے احساسات کا اظہار (اسٹریم آف کانشیئسنس) کا جائزہ لیا۔

جن افراد نے پریشانی، تنہائی اور اس سے وابستہ منفی الفاظ استعمال کئے ان کی صحت دیگر کے مقابلے میں بہتر نہ تھی۔ اس کے برخلاف جنہوں نے مثبت احساسات اور پرجوش انداز والے الفاظ لکھے وہ ان کی مجموعی بہتر صحت کو ظاہر کررہے تھے۔ ان افراد میں ڈپریشن بھی کم تھی۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے الفاظ خواہ وجذبات کا اظہار کریں یا احساسات کو وہ ہماری عمومی صحت کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *