Categories
Breaking news

یونان میں پولیس کا دربدر تارکین وطن پر بدترین تشدد اور شیلنگ، درجنوں افراد زخمی

Advertisement
Advertisement

ایتھنز ( نیوز ڈیسک) یونانی حکام نے جزیرہ لیسبوس کے موریا کیمپ میں آتش زدگی کی ذمے داری قبول کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی شروع کردی۔ ایتھنز حکومت جزیرے پر گنجائش سے زیادہ تارکین وطن کو زبردستی رہنے پر مجبور کرکے پہلے ہی تنقید کی زد میں تھی اور اب وہاں آتش زدگی کے باعث بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کی داد رسی کے بجائے ان پر تشدد شروع کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق گزشتہ روز لیسبوس میں کسمپرسی کے حالات میں زندگی بسر کرنے والے تارکین وطن نے ایتھنز حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ اس دوران حکام نے پولیس کو مظاہرین پر تشدد کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی،جس کے بعد اہل کاروں نے تارکین وطن پر آنسو گیس کی بے دریغ شیلنگ کی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کیمپ میں بڑے پیمانے پر آتش زدگی کے بعد حکومت نے عارضی طور پر بے گھر افراد کے رہنے کے لیے کیمپ بنادیا ہے، کسی طرح بھی 12ہزار افراد کے رہنے کے قابل نہیں ہے۔ حکام نے اعلان کیا ہے کہ نئے کیمپ میں منتقلی بہت جلد شروع ہوجائے گی،تاہم اس دوران شرط رکھی گئی ہے کہ وہی تارک وطن نئے کیمپ میں داخلے کا مجاز ہوگا، جس کا کورونا ٹیسٹ ہوگیا ہو۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یونان حکومت انہیں جزیرے پر رکھ کر حیوانوں جیسا سلوک کررہی ہے۔ ہزاروں افراد کے کورونا ٹیسٹ کے لیے طویل وقت درکار ہوگا اور اس دوران تارکین وطن کو جلے ہوئے کیمپوں میں رہنا پڑے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے سازش کے تحت ان کے کیمپ میں آگ لگوائی تاکہ وہ نئے کیمپ میں داخلے کے لیے اپنی مرضی کی شرائط منواسکے اور وہاں سے تارکین وطن کی تعداد کو کم کردیا جائے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر یورپ جانے کی اجازت دی جائے،تاکہ وہ اپنی حالت سدھارسکیں اور آئے دن پولیس کے تشدد اور رہائش سے متعلق غیر یقینی حالات سے چھٹکارا مل جائے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *