Categories
Breaking news

یورپی یونین کے شہریوں کو برطانیہ میں قیام جاری رکھنے کی درخواست کیلئے 28 دن کی مہلت

لندن(دوست مانیٹرنگ ڈیسک) بریگزٹ پر عمل درآمد کے بعد یوروپی یونین کے شہریوں کو برطانیہ میں قیام کی درخواست دینے کے لئے 28 دن کی مہلت دے دی گئی۔ حکومت نے کہا ہے کہ امیگریشن قوانین کا نفاذکرنے والے اہلکار برطانیہ میں مقیم یورپی یونین کے شہریوں کو درخواست دینے کے لئے 28 دن کا انتباہ جاری کرنا شروع کریں گے۔ تاہم ہوم آفس تاخیر کا معقول عذر رکھنے والے لوگوں کو برطانیہ میں سیٹل ہو جانے کی درخواست مکمل کرنے کے لئے غیر معینہ مدت تک کا وقت دے سکے گا۔ درخواستیں دینے کی آخری تاریخ میں ایک ہفتہ باقی ہے۔

واضح رہے کہ تقریباً 5.6 ملین یوروپی اکنامک ایریا (ای ای اے) کے شہریوں اور ان پر انحصار کرنے والے افراد نے برطانیہ میں مستقل آباد حیثیت کے لئے درخواست دی ہے۔ تاہم یہاں چار لاکھ کے قریب کیسز باقی ہیں اور حکومت کی ہیلپ لائن کو ایک دن میں ہزاروں کالیں موصول ہوتی ہیں۔ امیگریشن پالیسی کے بارے میں ہوم آفس کو خط بھیجا گیا تھا جس میں ٹھیک پانچ سال قبل ہونے والے 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد برطانیہ میں مقیم ای یو اور ای ای اے کے شہریوں کے لئے مستقل آباد حیثیت متعارف کروائی گئی تھی۔ اس میں انہیں رہائش، سفر، ملازمت اور صحت کی دیکھ بھال اور فوائد تک رسائی کے ایک جیسے حقوق برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔

وہ ممالک، جن کے شہریوں نے سب سے زیادہ درخواستیں دی ہیں، ان میں پولینڈ (975000) اور رومانیہ (918000) شامل ہیں۔ وزیر امیگریشن کیون فوسٹر نے کہا کہ آئندہ ہفتے کی ڈیڈ لائن تک جس کی درخواست پر عمل درآمد نہیں ہوا وہ اپنی حیثیت سے محروم نہیں ہوگا بلکہ ان کے حقوق قانون میں محفوظ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امیگریشن نافذ کرنے والے اہلکار لوگوں کو 28 دن کے نوٹس جاری کرنا شروع کردیں گے اور انہیں مستقل حیثیت کے لئے درخواست دینے کا مشورہ دیں گے۔ تارکین وطن کے گروپوں نے اس تشویش کا اظہار کیا تھا کہ بچے ان لوگوں میں شامل ہوں گے، جنھوں نے درخواست نہیں دی تھی لیکن مسٹر فوسٹر نے کہا کہ ایک غیر معینہ مدت ہوگی جہاں لوگوں نے درخواست نہیں دی تھی، اگر ان کے پاس مناسب وجوہات ہوں تو انھیں درخواست دینے کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے ان طلبا کی مثال دی جنہیں پہلی بار یونیورسٹی میں درخواست دیتے وقت پتہ چلے کہ ان کی برطانیہ میں مستقل مقیم ہونے کی حیثیت نہیں ہے۔ یوروپی یونین کے شہریوں کے کمپین گروپ ’’ملین ڈالر‘‘ کے شریک بانی مائیک بوہن نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ لوگ دیر تک درخواست دے سکتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ غیر قانونی ہیں، کیونکہ انہوں نے درخواست داخل نہیں کی ہے۔ جو اہل ہونے کے باوجود وقت پر درخواست نہیں دیتے ہیں وہ غیر قانونی ہوجاتے ہیں اور کام، رہائش، مفت صحت کی دیکھ بھال تک رسائی اور بہت کچھ کھونے کا خطرہ ہو جاتا ہے۔

مسٹر فوسٹر نے کہا کہ اگر موجودہ فائدہ مند دعویداروں کو برطانیہ میں مقیم ہونے کی حیثیت نہیں ملی تو ان کی ادائیگی بند نہیں ہوگی لیکن انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں کوئی بھی مقیم ہونے کی حیثیت کے بغیر بینیفٹ کلیمز، نوکری یا کرایہ پر مکان حاصل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اطلاع موصول ہونے پر کہ گذشتہ ماہ یوروپی یونین کے کچھ شہریوں کو سرحد پر طویل عرصے سے نظربند رکھا گیا تھا، ہوم آفس نے سرحدی عہدیداروں کے لئے رہنما اصول تبدیل کردیئے ہیں۔ منگل کے روز ہاؤس آف لارڈز کی یورپی امور کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ 30 جون سے پہلے ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مقیم ہونے کی سہولت حاصل ہو جائے۔ برطانیہ میں مقیم یورپی یونین کے شہریوں کو برطانیہ میں قیام جاری رکھنےکے لئے 30 جون تک درخواست دینا ہوگی۔ 31 مئی تک 2.75 ملین لوگوں کو برطانیہ میں قیام جاری رکھنے کی سہولت فراہم کی جاچکی ہے۔ 2020 کے آخر تک برطانیہ میں پانچ سال سے کم عرصہ تک رہائش رکھنے والےکسی بھی شخص کو ’’پری ۔سیٹلڈحیثیت‘‘ دی جا سکتی ہے۔ 31 مئی تک 2.28 ملین افراد کو پری۔ سیٹلڈ حیثیت کی منظوری دی جا چکی ہے۔ وہ مستقبل میں آباد حیثیت کے لئے درخواست دے سکتے ہیں لیکن ان کی درخواست قبول ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *