Categories
Breaking news

ہسپانوی باشندوں کے سلام دعا کے وہ طور طریقے جن سے غیرملکی گھبراجاتے ہیں

Advertisement
Advertisement

میڈرڈ(محمد نبی) اسپین میں خوش آمدید اور خدا حافظ کہنا زیادہ مختلف نہیں مگر یہاں کچھ روایات ایسی ہیں جن سے اکثروبیشترغیرملکی پریشان ہو جاتے ہیں اورغلط سمجھ بیٹھتے ہیں۔ نشست و برخاست کے کچھ دلچسپ پہلو ملاحظہ ہوں۔
پہلے نمبر پر بوسہ دینا آتا ہے۔ جب کوئی عورت مرد سے یا عورت دوسری عورت سے ملتی ہے یا پھر پہلی دفعہ تعارف ہوتا ہے تو دو دو بوسوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ تاہم اگر دونوں مرد ایک دوسرے سے مل رہے ہیں تو پھر مصافحہ یا معانقہ ہوگا۔
کورونا وبا کی وجہ سے اس رسم کو فی الحال اپنایا نہیں جاتا۔ مگر نارمل حالات میں یہ رسم نبھائی جاتی ہے۔ اکثرغیرملکی اس کا غلط تاثر لیتے ہیں۔ مگر یہ ہسپانوی قدیم روایت کا حصہ ہے۔
دوسرے نمبر پر اگر کوئی راہ چلتا شناسا مل جائے اور آپ اس کو روکنا نہیں چاہتے تب، ہائے، ہیلو یا سلام کے بجائے ‘بائی’ یعنی خدا حافظ کہیں گے۔ اسی طرح، “بعد میں ملتے ہیں” بھی کہا جاتا ہے۔ لہذا اسپین میں “اولا” یا ‘بیونس دائیس / تاردس’ کے بجائے “ایدیوس” اور “استا لیوگو” بولا جاتا ہے۔
تیسرے نمبر پر گلے ملنا آتا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے یہ رسم بھی آج کل نبھائی نہیں جاتی۔ اکثرغیرملکیوں کے لئے یہ رسم بھی نئی ہوتی ہے۔ ہسپانوی جب ملتے ہیں تو پرتباکی سے معانقہ کرتے ہیں مگر یہ خاطر میں رہے کہ اس رسم کا انحصار ایک طویل عرصے کی جدائی اور دوسرے اچھی دوستی پر ہے۔
چوتھے نمبر پر، ہسپانوی اکثر صبح بخیر اور بعد دوپہر کے سلام کو گڈ مڈ کر بیٹھتے ہیں۔ ہر ہسپانوی 12 بجے کے بعد “گڈ آفٹرنون” نہیں کہتا۔ اس کے بجائے اکثر صبح بخیر ہی کہہ دیا جاتا ہے۔ سو اکثر “بیونس داس” اور “بیونس تارتس” مکس ہو جاتے ہیں۔
شب بخیر کے لئے “بیونیس نوچے” یا “بیونیس تاردیس” کی بجائے “بیونس” یا “اولا” کہنا زیادہ سہل اور عام ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *