Categories
Breaking news

گیس کے معاملے پر نیب کیوں سو رہی ہے، سعید غنی

گیس کے معاملے پر نیب کیوں سو رہی ہے، سعید غن

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کہتے ہیں کہ گیس کے معاملے پر نیب کیوں سو رہی ہے، اگر بر وقت فیصلہ کرلیتے تو اربوں کا نقصان نہیں ہوتا۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ ملک میں گیس کی قلت کا سامنا ہے، سردیاں آتے ہی گیس کا بحران پیدا ہوجاتا ہے، وزیراعظم عمران خان نے کئی عرصہ پہلے کہا کہ بحران ہوگا۔

Table of Contents

x
Advertisement

سعید غنی نے کہا کہ ذخائر کم اور طلب بڑھ رہی ہے، گیس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایل این جی درآمد کریں،سردیوں میں دنیا بھر میں ایل این جی کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔

تین روز قبل گیس کی کمی ہوئی تھی، اب سندھ میں سپلائی بہتر ہے، سوئی سدرن کمپنی

کراچی سمیت سندھ بھرمیں گیس کی سپلاٸی بہتر ہے۔ سوٸی سدرن کمپنی کے اعلامیہ کے مطابق شہر میں 3 روز قبل ایس ایس جی سی سسٹم میں گیس کمی ہوٸی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ پلاننگ کے مطابق قبل ازوقت گیس کے آڈر دے دیے جائیں، پاکستان میں دو ایل این جی ٹرمینل لگے ہیں، اس کا مطلب 12 کارگو منگوائے جاسکتے ہیں۔

سعید غنی نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی وقت وفاقی حکومت نے کارگو پورا نہیں منگوایا جبکہ 2018 سے 2020 تک 122 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ نقصان نہیں بلکہ پاکستانی عوام پر ڈاکا ڈالا ہے، معیشت پر بوجھ ڈالاہے، 2018 میں تاخیر سے آرڈر کیے جس سے نقصان ہوا۔

2سال تک گیس کی کمی کی صورتحال برقرار رہے گی،حکومت

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) گزشتہ کئی برسوں سے ملک…

سعید غنی نے کہاکہ 2020 میں دوبارہ 2018 والی غلطی کی گئی اور نقصان ہوا، ایل این جی کمپنی نے ان کو خطوط بھی لکھے لیکن کوئی جواب نہیں دیے گئے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایل این جی کمپنی بار بار کہتی ہے کہ آرڈر سے متعلق وقت پر بتایا جائے، عمر ایوب اور ندیم بابر 122 ارب روپے کے نقصان کے ذمےدار ہیں۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ تین جولائی 2020 کو سیکریٹری تعلیم کو نیب نے خط لکھا، خبر کی بنیاد پر نیب نے سیکریٹری تعلیم کو طلب کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم سندھ کا ایک ٹینڈر ہوا اور غلط خبر چھپنے پر نیب نے نوٹس بھیج دیا۔

سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ ایک ماہ سے 122 ارب کا شور مچا ہوا ہے لیکن نیب نوٹس نہیں لے رہا۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *