Categories
Breaking news

کینری جزیرے کا استعمال تارکین وطن کی روک تھام پالسی کا حصہ ہے، سی ای اے آر رپورٹ

میڈرڈ(محمد نبی) ہسپانوی کمیشن فار ایڈ ٹو ریفیجیو (CEAR) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کینری آئس لینڈ کو ایک نئے اسٹیج کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ تارکین وطن کے سدباب کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے مثال کے طورپر یونان کو پیش کیا ہے جہاں تارکین وطن کو اندرونی علاقوں میں رکھا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کے زریعے تارکین وطن کے بہاؤ کو روکا جاتا ہے اور انہیں واپس اپنے اپنے ملکوں کو روانہ کیا جاتا ہے۔
سی ای اے آر نے اپنی رپورٹ کہا کہ 2020 کے آخری مہینوں میں تارکین وطن کی بڑی تعداد کی آمد نے ہسپانوی حکومت کے لئے انتطامی پہلو سے بحران پیدا کر دیا۔ یہی وجہ تھی کہ انسانی حقوق کی پامالی ہوئی اور سہولیات کے فقدان نے انسان سوز حالت پیدا کر دیئے۔ ہسپانوی حکومت کے پاس وسائل اور حکمت عملی دونوں کا فقدان تھا۔ اس وجہ سے گرفتاریوں، قانونی جواز کے بغیر آزادی سے محروم کرنا، امداد کی عدم فراہمی اور اکیلے سفر کرنے والے بچوں کو توجہ نہ دینا جیسے مسائل نے جنم لیا۔
رپورٹ پیش کرنے کے دوراں صدر گران کنیریا صدر نے کہا کہ 2020 میں 23000 تارکین وطن جزیرے پہنچے۔ یہ اتنی بڑی تعداد نہ تھی جس کا انتظام ناممکن ہو مگر ہسپانوی حکومت نے کینری جزیرے کو قید خانے کی طرح استعمال کرنے کو ترجیح دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *