Categories
Breaking news

کیا مچھلی کے تیل کا کیپسول نقصان دے ہوسکتا ہے؟

کیا مچھلی کے تیل کا  کیپسول  نقصان دے ہوسکتا ہے؟

مچھلی کے تیل اور چکنائی کو انسانی جسم کے لیے نہایت فائدہ مند سمجھا جاتا ہے اور اس کے لیے اس کی کیپسول بھی بازار میں دستیاب ہیں، تاہم اب ماہرین نے اس کا نقصان بھی دریافت کرلیا ہے۔

حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق مچھلی کے تیل یا اومیگا تھری کیپسول ایسے افراد میں دل کی دھڑکن کی رفتار میں تبدیلی لانے کا باعث بن سکتے ہیں جن کے خون میں چکنائی یا لپڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

یورپین ہارٹ جرنل میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ اس وقت مچھلی کے تیل کے سپلمنٹس کے بارے میں عندیہ دیا جاتا ہے کہ یہ دل کی شریانوں سے جڑے خطرات کو کم کرتے ہیں اور یہ ہر جگہ ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دستیاب ہیں۔

اس سے قبل کچھ کلینیکل ٹرائلز میں خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ سپلمنٹس دھڑکن میں بے ترتیبی کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں، اس عارضے کے شکار افراد میں فالج کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی والا یہ مرض مختلف پیچیدگیوں جیسے خون گاڑھا ہونے، فالج اور ہارٹ فیلیئر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

اس تحقیق میں مچھلی کے تیل کے سپلمنٹس پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس کا جامع تجزیہ کر کے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ ان سے دھڑکن میں بے ترتیبی کا خطرہ کتنا بڑھ جاتا ہے۔

ان تحقیقی رپورٹس میں 50 ہزار سے زائد افراد شامل تھے جن کو مچھلی کے تیل کے کیپسول یا پلیسبو کا استعمال 2 سے 7 سال تک کروایا گیا، مچھلی کے تیل کی روزانہ خوراک 0.84 گرام سے 4 گرام تھی۔

ماہرین نے دریافت کیا کہ یہ سپلمنٹس پلیسبو کے مقابلے میں دھڑکن کی بے ترتیبی کے عارضے کا خطرہ 1.37 گنا بڑھا سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ مچھلی کے تیل کے سپلمنٹس سے دھڑکن کی بے ترتیبی کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ٹرائل میں عندیہ دیا گیا تھا کہ یہ سپلمنٹ دل کی شریانوں کے لیے مفید ہے مگر دھڑکن کی بے ترتیبی کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی فروخت ڈاکٹروں کے نسخے پر ہونی چاہیئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *