Categories
Breaking news

کٹاس راج مندر کا انتظام متروکہ وقف املاک بورڈ کو دینے کا حکم

Advertisement

سپریم کورٹ نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے کٹاس راج مندر کمپلیکس کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کو دینے کا حکم دیدیا ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب فیصل چوہدری سے استفسار کیا کہ ملتان پرلاب مندر کی سیکیورٹی کے اقدامات کے متعلق کیا پیش رفت ہوئی؟ اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ پرلاب مندر میں ہولی 26 مارچ کو منانے کا کہا گیا اور 26 مارچ کو اپوزیشن نے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، سیاسی ماحول کی وجہ سے سیکیورٹی کی فراہمی میں مسائل ہو سکتے ہیں۔

کیس کی سماعت کے دوران چیف سیکرٹری پنجاب کی عدم پیشی پر سپریم کورٹ نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ چیف سیکرٹری نہ خود آئے اور نہ عدالتی حکم پر عمل ہوا۔

کٹاس راج مندر کا انتظام متروکہ وقف املاک بورڈ کو دینے کا حکم
کٹاس راج مندر

عدالت کو بتایا گیاکہ چیف سیکرٹری کابینہ میٹنگ کی وجہ سے مصروف ہیں، اس پر جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ عدالتی نوٹس ملتے ہی کابینہ میٹنگ کیوں رکھی گئی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ پرلاب مندر کے حوالے سے خط لکھ کر کونسا تیر مارا ہے؟ خط و کتابت کرنا سیکرٹری کا نہیں، کلرک کا کام ہے، سیکرٹری کا کام احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوتا ہے، اب 100 سال پرانا زمانہ نہیں کہ خط لکھ کر بیٹھے رہیں۔

سپریم کورٹ نے پرلاب مندر کی بحالی اور سکیورٹی کے احکامات پر 2 ہفتے میں عملدرآمد رپورٹ مانگ لی اور کٹاس راج مندر کمپلیکس کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کو دینے کا بھی حکم دیدیا۔

عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت کٹاس راج مندر کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کرے اور حکومت اس کام کو 2 ہفتوں میں یقینی بنائے۔

کیس کی سماعت کے دوران رمیش کمار نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کرک واقعے سے پہلے سمادھی پر 3 کروڑ 80 لاکھ خرچ کیے، متروکہ وقف املاک بورڈ نے خرچ شدہ رقم واپس نہیں کی، عدالت نے رمیش کمار سے کرک سمادھی پر خرچ رقم کا ریکارڈ مانگ لیا۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *