Categories
Breaking news

کورونا کے علاج کیلئے گولیوں کے استعمال کی اجازت

 کورونا کے علاج کیلئے گولیوں کے استعمال کی اجازتامریکا کے بعد برطانیہ نے بھی دوا ساز کمپنی فائزر کی تیار کردہ کووڈ 19 کی گولیوں کو استعمال کرنے کی منظوری دے دی۔

برطانیہ سے قبل گزشتہ ماہ 23 دسمبر کو امریکا نے بھی کورونا سے تحفظ کی مذکورہ گولیوں کے استعمال کی منظوری دی تھی۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق برطانیہ میں فائزر کی تیار کردہ گولیاں ان بالغ افراد کو استعمال کرائی جائیں گی جن میں بیماری کی شدت معمولی سے معتدل ہوگی مگر بیماری کی سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوگا۔

برطانیہ کے میڈیسین اینڈ ہیلتھ کیئر پراڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی (ایم ایچ آر اے) کی جانب سے 31 دسمبر کو جاری بیان میں بتایا گیا کہ فائزر کی گولیاں پیکسلووڈ‘ (Paxlovid) اس وقت بہت زیادہ مؤثر ہے جب اسے بیماری کے ابتدائی مراحل میں استعمال کرایا جائے۔

برطانوی ادارے کی جانب سے بیماری کی اولین علامات سامنے آنے کے 5 دن کے اندر اس دوا کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

فائزر نے دسمبر 2021 میں بتایا تھا کہ یہ دوا زیادہ خطرے سے دوچار افراد کو کووڈ سے متاثر ہونے پر ہسپتال میں داخل ہونے اور موت سے بچانے کے لیے لگ بھگ 90 فیصد تک مؤثر ہے۔

حالیہ لیب ڈیٹا سے عندیہ ملا ے کہ دوا کی افادیت کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے خلاف بھی مؤثر ہے۔

ایم ایچ آر اے کا کہنا ہے کہ وہ فائزر کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے تاکہ اومیکرون کے خلاف پیکسلوئیڈ کی افادیت کی جانچ پڑتال کی جاسکے۔

ایم ایچ آر اے کے سربراہ جون رائنے نے ایک بیان میں بتایا کہ اب ہمارے پاس کووڈ 19 کے علاج کے لیے ایک اینٹی وائرل دوا ہے جس کو منہ کے ذریعے استعمال کیا جاسکے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس دوا کو ہسپتال سے باہر بھی مریض استعمال کرسکیں گے۔

فائزر کی دوا 2 متحرک اجزا سے تیار کی گئی ہے جو 2 مختلف گولیوں میں دستیاب ہوگی جس کو دن میں 2 بار 5 روز تک استعمال کیا جائے گا۔

برطانیہ اب تک اس دوا کے 27 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ کورسز کو خرید چکا ہے۔

یہ دوا کورونا وائرس کے ایسے انزائمے بلاک کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جن کو وہ اپنی نقول بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

برطانیہ نے اس سے قبل نومبر 2021 میں مرک کمپنی کی تیار کردہ کووڈ 19 کو ہنگامی استعمال کی منظوری دی تھی۔

مرک کی تیار کردہ دوا کو کلینکل ٹرائل میں زیادہ خطرے سے دوچار مریضوں کے ہسپتال میں داخلے اور اموات کی روک تھام کے لیے 30 فیصد تک مؤثر دریافت کیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.