Categories
Breaking news

کورونا ویکسین کی حتمی تیاری, بڑے چیلنجز نے سر اٹھا لیا

Advertisement
Advertisement

کورونا ویکسین

دنیا بھر میں ادویہ ساز کمپنیاں کورونا ویکسین کی تیاری میں جٹی ہوئی ہیں اسی ضمن میں کمپنی سیرم انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے ویکسین سے متعلق ایک بڑے چیلنج کی طرف اشارہ کیا ہے۔

ادویہ ساز کمپنی سیرم انسٹی ٹیوٹ کے چیف ایگزیکٹیو ادار پونا والا نے غیرملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کروناویکسین اگر حتمی طور پر تیار بھی ہوجائے تو اس کی فراہمی ایک مشکل طلب مرحلہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کرونا کے خلاف ویکسین کی ہرفرد کو فراہمی میں تقریباً 3 سے 4 سال لگ سکتے ہیں کیوں کہ ویکسین کی پیدواری صلاحیت ابھی اس قابل نہیں کہ فوراً ہر شہری کو لگادی جائے گی۔

چیف ایگزیکٹیو کا کہنا تھا کہ 2024 سے پہلے ہر شخص کو کروناویکسین کی فراہمی ممکن نہیں ہے، اگر خسرے کی ویکسین کی طرح 2 ڈوز کی ضرورت ہوئی تو دنیا کو 15 ارب کرونا ڈوز درکار ہوں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ویکسین کی پروڈکشن کے لیے سیرم انسٹی ٹیوٹ سرمایہ کاروں سے مذاکرات کررہی ہے تاکہ کمپنی کی پروڈکشن گنجائش کو بڑھا کر ایک ارب ڈوز تیار کرنے کا ہدف حاصل کرسکے۔

پونا والا کا کہنا تھا کہ کروناویکسین کی تیاری اور اس کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ہماری کمپنی ہرممکن اقدامات کررہی ہے اور اس کے نتائج آئندہ دو سالوں میں نظر آئیں گے۔

خیال رہے کہ سیرم انسٹی ٹیوٹ 5 دیگر کمپنیوں بشمول آسترا زینیکا اور نووا واکس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ کرونا وائرس کے خلاف ویکسین کو تیار کیا جاسکے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *