Categories
Breaking news

کورونا وائرس کی نئی قسم زیادہ متعدی کیوں ہے؟ تحقیق سامنے آگئی

کورونا وائرس کی نئی قسم زیادہ متعدی ہے

رواں ماہ برطانیہ میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کے حوالے سے دنیا بھر میں کافی تشویش ظاہر کی جارہی ہے اور اب سانسدانوں نے اس پر ایک تحقیق کے نتائج جاری کیے ہیں۔

برطانوی سائنسدانوں کی اس تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ نئی قسم اتنی زیادہ متعدی ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے نئے احتیاطی اقدامات بشمول اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو بند کرنا ضروری ہیں۔

لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسین کے سینٹر فار میتھمیٹکل موڈلنگ آف انفیکیشز ڈیزیز کی اس تحقیق کو ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں کیا گیا۔

تحقیق میں کیسز، ہسپتال میں زیرعلاج مریضوں اور دیگر اقسام کے ڈیٹا کا موازنہ کیا گیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایسے شواہد نہیں ملے کہ یہ نئی قسم دیگر کے مقابلے میں زیادہ جان لیوا ہے۔

تاہم محققین کے تخمینے کے مطابق یہ نئی قسم دیگر کے مقابے میں 56 فیصد زیادہ متعدی ہے جبکہ برطانوی حکومت کی گزشتہ دنوں جاری ابتدائی رپورٹ میں اسے 70 فیصد زیادہ متعدی قرار دیا گیا تھا۔

اس نئی قسم کی دریافت کا اعلان رواں ماہ کے وسط میں کیا گیا تھا جو لندن اور مختلف حصوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے، جس میں متعدد میوٹیشنز ہوئی ہیں جو اسے زیادہ متعدی بناتی ہیں۔

تحقیق میں مزید شواہد دریافت کیے گئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نئی قسم دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل سکتی ہے۔

محققین نے مختلف ریاضیاتی ماڈلز تیار کرکے ان کی آزمائش کی تاکہ اس نئی قسم کے پپھیلاؤ کی وضاحت کرسکیں۔

انہوں نے تجزیہ کیا کہ کونسا ماڈل پھیلاؤ کی زیادہ بہتر پیشگوئی کرسکتا ہے جس کی تصدیق بھی ممکن ہو۔

تحقیقی ٹیم نے اندازہ لگایا کہ آئندہ 6 ماہ کے دوران اس نئی قسم سے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور مختلف پابندیوں کے اثرات کے یے ماڈلز بھی تیار کیے، جس میں ویکسینز کے اجرا کو شامل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ویکسینز کے بغیر اس نئی قسم کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج مریضوں کی تعداد، آئی سی یو میں داخے اور اموات کی شرح 2020 کے مقابلے میں 2021 میں زیادہ ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اضافی پابندیوں کو اٹھانے سے کیسز کی تعداد میں دوبارہ نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پھیلنے کی زیادہ شرح کے باعث برطانیہ میں ویکسینیشن کی رفتار کو تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اجتماعی مدافعت پیدا کی جاسکے۔

محققین نے خبردار کیا کہ ان کا ماڈل تصورات پر مبنی ہے، جس کے کچھ پہلو غلط بھی ہوسکتے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس نئی قسم کی روک تھام کے لیے نئی حکمت عملیوں کو اپنانے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کے وبائی امراض کے ماہر بل ہاناگی جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے، نے کہا کہ تحقیق کے نتائج سے اس نئی قسم کے ماضی اور مستقبل میں ممکنہ اثرات کی جامع وضاحت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا یہ نتائج اہمیت رکھتے ہیں؟ ہاں رکھتے ہیں، کیا پھیلاؤ کی شرح کے نتاج دیئے گئئے؟ ہاں ایسا کیا گیا، کیا آئندہ چند ماہ میں اس سے نمایاں اثرات مرتب ہوں گے؟ ہاں، میرے خیال میں یہ کافی ٹھوس تحقیق ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *