Categories
Breaking news

کورونا وائرس کی شدت خواتین کی نسبت مردوں میں ذیادہ کیوں ہوتی ہے؟ جانیے نئی تحقیق

Advertisement
Advertisement

مرد اور عورت

نئی طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خواتین کے مقابلے میں کوروناوائرس کی سنگین شدت مردوں میں 3 گنا زیادہ ہوتی ہے اور انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں داخلے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

تحقیق میں دیافت ہوا کہ اسپتال میں علاج کے دوران آئی سی یو میں داخلے کا خطرہ خواتین کی بہ نسبت مردوں میں 3 گنا بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین نے رواں سال جنوری سے جون کے دوران 30 لاکھ سے زیادہ کووڈ کیسز کا تجزیہ کیا جن میں کورونا متاثرہ مرد اور خواتین دونوں شامل تھے اور پھر یہ نتیجہ سامنے آیا۔

اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورونا سے متاثر ہونے کے بعد خواتین کے مقابلے میں مردوں کی اموات کا امکان بھی 1.4 فیصد زیادہ ہوتا ہے، تاہم بیماری کے شکار ہونے کا امکان دونوں میں یکساں ہوتا ہے۔

ماہرین نے مشاہدے کے دوران تقریباً 44 ممالک اور 44 امریکی ریاستوں کے کورونا کیسز کا جائزہ لیا جس کی تعداد 30 لاکھ بنتی ہے۔ جن میں 15 لاکھ 70 ہزار خواتین اور 15 لاکھ 30 ہزار مرد مریض شامل تھے۔ ان افراد میں سے 8 ہزار مرد اور 4 ہزار خواتین کو آئی سی یو میں داخل کیا گیا تھا۔

بعد ازاں مذکورہ 30 لاکھ افراد میں سے 2 لاکھ ہلاکتیں ہوئیں جن میں ایک لاکھ 20 ہزار مرد اور 90 ہزار خواتین تھیں۔ جس سے ماہرین نے اخذ کیا کہ خواتین کے مقابلے میں مرد زیادہ آئی سی میں گئے اور اموات بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

یہ تحقیق برطانیہ کی لندن کالج یونیورسٹی اور جنوبی افریقہ کی کیپ ٹاؤن یونیورسٹی کے محققین نے کی جو طبی جریدے جرنل نیچر کمیونیکشن میں شایع ہوئی ہے، البتہ مردوں اور خواتین میں بیماری کے اثرات کی شدت کی وجوہات کا جائزہ نہیں لیا گیا، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ جسمانی فرق کی وجہ سے کووڈ 19 کے اثرات عورتوں پر کم ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مردوں اور خواتین کے مدافعتی نظام یکساں طریقے سے کام نہیں کرتے لیکن اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ مخصوص حیاتیاتی عناصر کا تعین کیا جاسکے۔ وائرل انفیکشن کے خلاف ابتدائی مدافعتی ردعمل، ٹی سیلز، بی سیلز اور مدافعتی یاداشت کا ردعمل مرد اور خواتین میں الگ ہوتے ہے۔

محققین کے مطابق دونوں جنسوں کے مدافعتی نظام میں فرق کی متعدد وجوہات ہوتی ہیں، جبکہ مردوں میں مختلف امراض کی شرح زیادہ ہوتی ہے اور اس سے بھی ان کے لیے خطرہ بڑھتا ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *