Categories
Breaking news

کورونا وائرس: پاکستان میں متاثرین کی تعداد 2 لاکھ 88 ہزار047 جبکہ دو لاکھ 65 ہزار 624 افراد صحتیاب

Advertisement
Advertisement

کورونا وائرس کیسز کے اعداد و شمارملک میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وبا کے 747 کیسزاور9 اموات رپورٹ ہوئیں۔

این سی اوسی کے مطابق ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وبا کے 747 کیسزاور 9 اموات رپورٹ ہوئیں۔ جس کے بعد ملک بھرمیں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 88 ہزار047 تک پہنچ گئی ہے۔

ملک میں ایکٹیو کیسز کی تعداد 16 ہزار 261 ہے، ملک بھرمیں صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد دو لاکھ 65 ہزار 624 ہوگئی۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں 23 ہزار722 ٹیسٹ کیے گئے، ملک بھرمیں اب تک 22 لاکھ 53 ہزار131 ٹیسٹ ہوچکے، ‏ملک بھرکے اسپتالوں میں 149 مریض وینٹی لیٹرپرہیں۔

این سی اوسی کے مطابق سندھ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار632، دوسرے نمبرپنجاب میں مریضوں کی تعداد 95 ہزار 203، کے پی میں کورونا وائرس سے متاثرمریضوں کی تعداد 35091 ، بلوچستان میں تعداد 12144، اسلام آباد میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 15346، آزاد جموں وکشمیر 2179، گلگت میں 2452 ہو گئی ہے۔

‏ملک بھرکے اسپتالوں میں 149 مریض وینٹی لیٹرپرہیں، اسپتالوں میں کوروناوینٹی لیٹرزکی تعداد 1859 ہے، ملک بھر میں 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے سہولیات ہیں، اس وقت 1 ہزار 311 مریض اسپتالوں میں داخل ہیں۔

کورونا وائرس اوراحتیاطی تدابیر

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *