Categories
Breaking news

کورونا وائرس: نئی دریافت نے ماہرین کو حیرت میں مبتلا کردیا

Advertisement
Advertisement

کورونا وائرس

کورونا وائرس کے حوالے سے دنیا بھر میں مختلف تحقیقات جاری ہیں، حال ہی میں حادثاتی طور پر ہونے والی ایک دریافت نے ماہرین کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا۔

امریکا کی ڈیوک یونیورسٹی کے ماہرین نے برازیل میں ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ ڈینگی بخار سے صحت یاب افراد میں کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت پیدا ہوجاتی ہے۔

مذکورہ ماہرین برازیل میں ایک تحقیق کر رہے تھے جس میں انہیں حادثاتی طور پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور ڈینگی بخار کے درمیان تعلق کا علم ہوا۔ ماہرین نے دیکھا کہ گزشتہ ایک سال کے اندر جن علاقوں میں ڈینگی بخار کے سب سے زیادہ کیسز دیکھے گئے، وہاں کرونا وائرس کا پھیلاؤ نہایت کم رہا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ڈینگی بخار کی اینٹی باڈیز کسی حد تک کرونا وائرس سے تحفظ فراہم کرتی ہیں یا اسے بے اثر کردیتی ہیں۔ تحقیق میں کہا گیا کہ بظاہر یوں معلوم ہو رہا ہے کہ ڈینگی اور سارس کوویڈ 2 کے وائرسز کے درمیان ایک نوعیت کی کراس ری ایکٹوٹی ہوئی۔

ان کے مطابق اگر یہ مفروضہ درست ثابت ہوا تو تو ڈینگی وائرس کی ویکسین کسی حد تک کرونا وائرس سے بھی تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق دلچسپ ہے کیونکہ اس سے قبل یہ دیکھا گیا تھا کہ جن افراد کے خون میں ڈینگی وائرس کی اینٹی باڈیز موجود ہیں، ان کا کرونا وائرس ٹیسٹ گمراہ کن طور پر مثبت آیا باجود اس کے، کہ وہ کرونا وائرس سے متاثر نہیں ہوئے تھے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ ڈینگی وائرس اور کرونا وائرس بالکل الگ نوع سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا ان کے درمیان کسی قسم کا امیونولوجیکل تعلق موجود ہو سکتا ہے، تاہم اس تعلق کو ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ برازیل اس وقت کرونا وائرس کے کیسز اور اموات کے حوالے سے تیسرا بدترین ملک ہے، تاہم دیکھا گیا کہ گزشتہ برس ڈینگی وائرس سے متاثرہ علاقے کرونا وائرس سے بہت کم متاثر ہوئے۔

ماہرین کے مطابق برازیل کے علاوہ ایشیا اور لاطینی امریکا کے بھی کچھ علاقوں میں ڈینگی اور کرونا وائرس کے درمیان ایسا ہی تعلق پایا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی یہ دریافت قطعی طور پر حادثاتی تھی، انہوں نے برازیل کے کرونا وائرس سے متاثرہ علاقوں کا نقشہ بنایا تو ان کے مشاہدے میں آیا کہ کچھ علاقوں میں وائرس کا پھیلاؤ غیر معمولی طور پر نہایت کم تھا۔

جب انہوں نے اس کی وجوہات تلاش کیں تو ان کے علم میں یہ دریافت آئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج نہایت غیر متوقع او حوصلہ افزا ہیں جنہوں نے کرونا وائرس کے علاج اور تحقیق کے حوالے سے نئے پہلو کی نشاندہی کی ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *