Categories
Breaking news

کورونا وائرس: سرکاری اداروں میں 50 فیصد حاضری کا سرکلر جاری

Advertisement
سرکاری اداروں میں 50 فیصد حاضری کا سرکلر جاری

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر این سی او سی کے فیصلے کے تحت کابینہ ڈویژن نے پالیسی فریم ورک جاری کر دیا۔

Advertisement

کابینہ ڈویژن کی جانب سے سرکاری اداروں میں کورونا وائرس کے پیشِ نظر 50 فیصد افسران اور ملازمین کو آفس میں بلانے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔

Table of Contents

x
Advertisement

کابینہ ڈویژن نے ہدایت کی ہے کہ جوائنٹ سیکریٹریز روٹیشن کی بنیاد پر آفس میں حاضری شیڈول بنائیں، متعلقہ افسران گھر بیٹھ کر آفیشل کام کریں۔

کابینہ ڈویژن نے اپنا ورکنگ اسٹیشن بغیر بتائے نہ چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوائنٹ سیکریٹریز اپنے ماتحت 50 فیصد عملے کی روٹیشن کی بنیاد پر آفس میں حاضری یقینی بنائیں۔

کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے5 واں اور10واں دن کیوں اہم؟

عالمی وباء کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے بیماری کی تشخیص کے بعد آئسولیشن کے 5 ویں تا 10ویں روز اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ اس دوران یہ وائرس اپنا اثر بھرپور انداز میں ظاہر کرتا ہے۔اس دوران ہی کورونا وائرس کی صھیح تشخیص ہو پاتی ہے۔

کابینہ ڈویژن نے ہدایت کی ہے کہ تمام افسران ایڈمن ونگ کی مشاورت سے اسٹاف کا ڈیوٹی روسٹر بنائیں، ڈیوٹی پرموجود افسران و ملازمین لازمی ماسک پہنیں۔

مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ بیمار ہونے کی صورت میں ملازمین فوری طور پر اپنے افسر کو آگاہ کریں، سرکاری دفاتر میں کام ای فائلنگ کے ذریعے کیا جائے۔

مراسلے میں حکم دیا گیا ہے کہ فائل کی ہینڈ ٹو ہینڈ نقل و حرکت سے گریز کیا جائے، اجلاس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد کیئے جائیں۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے عام شہریوں کی کسی بھی دفتر میں آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے کیسز اور اموات میں اضافے کے ساتھ ہی پاکستان 28 ویں نمبر سے 27 ویں پر آگیا ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 3 لاکھ 54 ہزار 461 ہو چکی ہے، جبکہ اس موذی وباء سے جاں بحق افراد کی کُل تعداد 7 ہزار 109 تک جا پہنچی ہے۔

کورونا وائرس کے ملک بھر میں 24 ہزار 938 مریض اب بھی اسپتالوں، قرنطینہ مراکز اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، جن میں سے 1 ہزار 316 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 3 لاکھ 22 ہزار 414 مریض اس بیماری سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *