Categories
Breaking news

کورونا لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر شہری کو سرِعام سزائے موت دے دی گئی

کورونا وائرس

شمالی کوریا نے کورونا پابندی کے قانون کو توڑنے پر ایک شہری کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سر عام سزائے موت دے دی۔

شمالی کوریا میں ایک شہری کو کرونا پابندی کی خلاف ورزی پر فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کر دیا گیا، شہری پر بند کیے گئے چینی سرحد پر اسمگلنگ کا الزام تھا۔

یہ خبر شمالی کوریا کے اندرونی ذرایع نے دی ہے، کرونا پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے شہری کو اس لیے گولی ماری گئی تاکہ لوگ ڈر جائیں، اور کرونا پابندیوں کی تعمیل کریں۔

شمالی کوریا کے حکومتی ذرایع کا دعویٰ ہے کہ ان کے ملک میں ابھی تک کوئی ایک کرونا کیس بھی سامنے نہیں آیا ہے، تاہم دوسری طرف کم جونگ اُن کی حکومت نے ملک میں نہایت سخت ایمرجنسی قرنطینہ اقدامات اٹھائے ہیں، اور فوج کو حکم دیا گیا ہے کہ چینی بارڈر کے آس پاس دیکھے جانے والے افراد کو بلا جھجک گولی مار دی جائے۔

ریڈیو فری ایشیا کے مطابق ذرایع نے کہا ہے کہ مذکورہ شہری کو سرعام گولی مارنے کا انتظام اس لیے کیا گیا تاکہ سرحدی علاقے میں رہنے والوں کو ڈرایا جا سکے، کیوں کہ یہاں بہت سارے لوگوں کے سرحد کے آر پار روابط ہیں اور اسمگلنگ بھی جاری رہتی ہے۔

جس شہری کو سزائے موت دی گئی، اس کی عمر 50 سال بتائی گئی، اس پر الزام تھا کہ وہ اپنے چینی کاروباری پارٹنرز کے ساتھ سرحد کے پار اسمگلنگ کر رہا تھا، جسے رواں برس بند کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ چین شمالی کوریا کا بڑا تجارتی پارٹنر ہے تاہم کرونا وبا کی وجہ سے باہمی تجارت میں 75 فی صد کمی آ چکی ہے۔ چوں کہ اسمگلرز کے ذریعے وائرس کی منتقلی کا خطرہ لگا رہتا ہے اس لیے کم کی حکومت نے فوج کو سرحد پر تعینات کر کے اسے پابندیوں کے نفاذ کا حکم جاری کیا۔

صرف یہی نہیں، پیانگ یانگ نے سرحدی محافظوں کو بھی چیک کرنے کے لیے اسپیشل یونٹس بھی بھیجے کہ کہیں وہ خود تو اسمگلنگ میں ملوث نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *