Categories
Breaking news

کورونا انفیکشن میں تیزی، برطانیہ آنے والے مسافروں کو ایئرپورٹ کے ہوٹلوں میں قرنطین کرنے کے فیصلے کا امکان

Advertisement
Advertisement

راچڈیل (ہارون مرزا)برطانیہ میں کوروناانفیکشن میں تیزی سے اضافے کے بعد ملک میں آنے والے تمام مسافروں کو ائیر پورٹس کے ہوٹلوں میں قرنطین کیلئے مجبور کرنے کافیصلہ کرنےکیلئے وزراء نے سر جوڑ لیے۔دوسری جانب برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 1290افراد لقمہ اجل بن گئے۔تفصیلات کے مطابق باور کیا جا رہا ہے برطانیہ آنے والے مسافروں کو ائیر پورٹس کے ہوٹلوں میں قرنطین کرنے پر جلد اتفاق کر لیا جائے گا نئی پابندیوں سے ٹریول انڈسٹری کیلئے پیدا ہونیوالی مشکلات اور لاکھوں افراد کے چھٹیوں کے منصوبہ جات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔سرحدی صورتحال خراب ہونے کے بعد ہیتھرو سمیت دیگر ائیر پورٹس پر پہلے ہی انتظامیہ کو مسافروں کے کورونا ٹیسٹ‘ لوکیٹر فارم کی چیکنگ سمیت دیگر کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لمبی قطاروں میںاپنی باری کے منتظر مسافروں کو ائیر پورٹ عملے کی طرف سے مفت پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ہوم آفس کا کہنا ہے کہ عملہ کو کسی قسم کاکوئی مسئلہ نہیں وہ نظام احسن طریقے سے چل رہا ہے ر۔شی سانک ٹریژری اور گرانٹ شاپس( محکمہ برائے ٹرانسپورٹ )نئے سفری اقدامات کے خلاف زور لگا رہے ہیں وبائی امراض کے دوران شعبہ ٹرانسپورٹ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے مگر سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل اور سیکرٹری صحت میٹ ہینکوک ملک میں داخل ہونے والے افراد کیلئے سخت ترین قوانین کے نفاذکے خواہاں ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انفیکشن کی شرح پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات تجاویز کا حصہ ہیں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک بھی سخت پابندیوں کے باعث معاشی مشکلات کا شکار ہیںمگر وہاں بھی قرنطین کی پالیسی نرم ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ہیلتھ سسٹم کی ڈویلپمنٹ کنسلٹنٹ الارو گاربائیو کو ایک یو م قبل ہیتھرو ائیر پورٹ پر مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس پر انہو ں نے ٹویٹر کے ذریعے سیکرٹری صحت میٹ ہینکوک سے ہیتھرو ائیر پورٹ پر ہجوم اور لمبی قطاروں سے متعلق استفسار بھی کیا اور معاشرتی فاصلے کی پابندی کی بھر پور خلاف ورزی پر گہری تشویش کااظہار بھی کیایہ امر قابل ذکر ہے کہ ہیتھرو ائیر پورٹس پر نئی پابندیوں اور شدید رش کے باعث معاشرتی فاصلے کی پابندی بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے اور لوگ ایک دوسرے سے جڑ کر قطاروں میں اپنی باری کا انتظا ر کرنے پرمجبور ہیں مسافروں کو قواعدو ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر بارڈر سیکیورٹی فورسز کی طرف سے جرمانوں کے باوجود قوانین کی خلاف ورزیاں جاری ہیں سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل کا کہنا ہے کہ موسم گرما میں غیر ملکی تعطیلات سے متعلق قیاس آرائی کرنا مشکل ہو چکا ہے سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری صحت برطانوی مسافروں کیلئے قرنطین کی پالیسی لاگو کرنے پر زور دے رہے ہیں۔علاوہ ازیںبرطانیہ میں کورونا وائرس کی موذی بیماری کا شکار ہونیوالے افراد کی تعداد 35لاکھ 43ہزار 646سے تجاوز کر گئی جبکہ 94ہزار 580سے زائد افراد عالمی وباء کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں تازہ ترین واقعات میں مزید 1290افراد لقمہ اجل بن گئے رواں ہفتہ روزانہ کی بنیاد پرتقریبا 40ہزار کے قریب مریض انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں عالمی وباء کورونا وائر س سے ابتک دنیا میں 20لاکھ 78ہزار کے قریب افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں 9کروڑ 70لاکھ 8ہزار سے زائد افراد انفیکشن کا شکار ہو چکے ہیں ابتک 5کروڑ35لاکھ 8ہزار 849افراد انفیکشن کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہوئے ہیں برطانیہ میں تیزی سے پھیلتے ہوئے انفیکشن پر قابو پانے کیلئے بھر پور کوششیں جاری ہیں سیکرٹری صحت میٹ ہینکوک کے مطابق برطانیہ میں ہر ایک منٹ میں تقریبا 2سو افراد کو کورونا سے بچائو کی ویکسین دی جا رہی ہے ہاؤس آف کامنس کو دیئے گئے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ فروری کے وسط تک سرفہرست چار ترجیحی گروپوں کو ویکسین کی پہلی خوراک فراہم کرنے کے لئے مثبت پیشرفت کی جارہی ہے امپیریل کالج لندن کے ذریعے ہونیوالے انگلینڈ کے ایک سروے کے مطابق تیسرے لاک ڈائون کے دو ران ابتک انفیکشن میں شر ح میں کمی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کورونا انفیکشن کی نئی شکل تیزی سے پھیلی ہے انفیکشن کی شرح بھی عروج پر ہے قوم کو حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے حکومت ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے ۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *