Categories
Breaking news

کم پابندیوں کے ساتھ رمضان المبارک کی آمد،30فیصد کے ساتھ مساجد میں عبادت ہو سکے گی

Advertisement

بارسلونا(دوست مانیٹرنگ ڈیسک)اسپین بھر میں مقیم مسلمان برادری اس بات پر شکر ادا کررہی ہے کہ اس سال 13 اپریل سے شروع ہونے والے رمضان المبارک میں کم پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔دن کی عبادت اور نمازوں کے لئے مساجد میں ۳۰ فیصد افرادکو اجازت ہوگی۔جو کورونا ایس او پیز کا مکمل خیال رکھیں گے۔
اس سال رمضان کو گذشتہ سال کے مقابلے میں کم پابندیوں کا سامنا ہے۔ 2020 میں مسلمان پورے رمضان المبارک میں ایک ساتھ نا عبادت کر سکے اور نہ ہی ایک ساتھ سحر وافطار کا اہتمام ہوسکا ۔ تاہم اس سال یہ پابندیاں زیادہ نہیں ہیں اور انھیں مساجد اور عبادت گاہوں تک رسائی کی اجازت ہے ، جو30٪ کی گنجائش ساتھ تمام اقدامات بھی اپنائیں گے۔
اسلامک کلچرل سینٹر آف سانتس(Centre Cultural Islàmic de Sants) کی ترجمان ، عصیما بتالیس(Uassima Boutaliss) نے زور دے کر کہا ہے کہ تمام مسلمان بہت خوش اور شکرگزار ہیں کہ پچھلے سال کے برعکس مساجد اور مراکز کھلے ہونگے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام مسلمان ایک ساتھ مل کر رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹیں گے اور انہیں اس بات کا بھی شدت سے احساس کرنا ہوگا کہ ہم ابھی وبائی مرض کے دور سے گزر رہے ہیں ۔ جو ہمیں بہت زیادہ آزادی نہیں دیتی ۔
عصیما بتالیس نے کہا کہ یہ مرکز نوجوانوں پر خصوصی توجہ دیتا ہے اور ان لوگوں کے لئے بھی کلاس فراہم کرتا ہے جو مسلم مذہب اور عربی زبان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اسلام کے بنیادی اصولوں اور رمضان کے اصولوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لئے بھی بات چیت کا اہتمام کرتا ہے۔ کچھ کلاسوں کو بھی خاص طور پر پابندیوں کی وجہ سے محدود کردیا گیا ہے۔
کرفیو جو رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک نقل و حرکت پر پابندی عائد کرتا ہے اس سے رمضان المبارک کی عام اور خصوصی نمازوں پر اثر پڑتا ہے۔ اسلامی جماعتوں کی نمائندگی کرنے والی مختلف فیڈریشنوں نے کاتالان حکومت سے ایک چھوٹی سی لچک طلب کی تھی ، جس میں گھر واپسی کو گیارہ تک بڑھانے اور مساجد کی گنجائش 50٪ تک بڑھانے پر مشتمل ہے۔ تاہم انفیکشن کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے پروکیکت نے انہیں اجازت نہیں دی۔اور کہا کہ مریضوں کے بڑھنے کی وجہ سے خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا ،کیونکہ سب کے لئے صحت اہم ہے۔
پروکیت کاجواب موصول ہونے کے بعد اسلامی فیڈریشنوں نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں مسلمانوں سے حکام کے ذریعہ طے شدہ صحت کے اقدامات کا احترام کرنے اور نظام الاوقات کی تعمیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ روزانہ کی دو نمازیں ایک ساتھ رکھیں ، لیکن یہ فیصلہ انہوں نے ہر مسجد کے امام کے ہاتھ میں چھوڑ دیا ہے۔ اسلامی کونسل برائے کاتالونیا کے ترجمان ، محمد ہلہول نے بتایا کہ متاثرین کی موجودہ صورتحال اور اعدادوشمار کے بعد ہمیں خطرہ مول نہیں لینا چاہیئے۔اور ایسے اقدامات نہیں اٹھانے چاہیئے جس سے اجتماعی صحت متاثر ہو ۔
اسلامی مذہب کا ایک بنیادی ستون دوسروں کے لئے خیرات کا مظاہرہ کرنا ہے۔ رمضان کے ساتھ ہی یہ حکم شدت اختیار کرتا ہے۔ پچھلے سال بہت سی عبادت گاہوں نے معاشرتی مدد کی حوصلہ افزائی کی اور کم آمدنی والے گھرانوں کو گروسری اور بنیادی ضروریات پیش کیں۔
اس سال اس اقدام کو مختلف دنوں میں خصوصا افطاری کے دوران روزے کے وقفے کے دوران دہرایا جائے گا۔اس سال رمضان المبارک میں بھی افطاریوں کا اہتمام نہیں ہو سکے گا ۔ اورجو لوگ اکیلے یا بغیر وسائل کے رہتے ہیں وہ بیشتر ایسی عبادت گاہوں میں جا سکتے ہیں اور گذشتہ سال کی طرح انہیں کھانے پینے کا سامان مہیا ہو سکے گا جو وہ اپنے ساتھ لے جا سکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *