Categories
Breaking news

کشمور زیادتی کیس، محمد بخش کی بیٹی کیلئے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

Advertisement
کشمور زیادتی کیس، محمد بخش کی بیٹی کیلئے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی جانب سے پولیس افسر محمد بخش کی بیٹی کے لیے دس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

Advertisement

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب نے اپنے ایک بیان میں کشمور زیادتی کیس سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمد بخش کی بیٹی کی تعلیم کے لیے حکومت سندھ اخراجات برداشت کر ے گی، پولیس افسر محمد بخش کی بیٹی یہاں پڑھنا چاہے یا بیرون ملک، اخراجات سندھ حکومت اٹھائے گی۔

Table of Contents

x
Advertisement

مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پولیس افسر محمد بخش نے جرات دکھائی، کشمور پولیس نےفوری کارروائی کی اور ملزم رفیق کو فوری حراست میں لیا، سندھ حکومت وفاقی حکومت سے محمد بخش کے لیے قائداعظم پولیس میڈل کے لیے سفارش کرے گی، پولیس افسرمحمد بخش نےجرات اور ہمت کی تو گرفتاری عمل میں آئی، پولیس افسر محمدبخش کو سندھ حکومت کی جانب سے گیلری ایوارڈ بھی دیا جائےگا۔

کشمور، ماں، بیٹی سے اجتماعی زیادتی کی تصدیق

کشمور میں خاتون اور اس کی 4 سالہ بچی کو نوکری کا لالچ دے کر اغوا کے سانحے میں گینگ ریپ کی تصدیق ہوگئی۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پولیس افسر نے ذاتی دلچسپی لے کر ملزمان کی گرفتاری ممکن بنائی۔

اُن کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون اور اس کی بیٹی کےعلاج کےاخراجات بھی سندھ حکومت اٹھائےگی، زیادتی کا شکار بچی کے تعلیمی اخراجات بھی سندھ حکومت اٹھائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ بچی کے ڈی این اے کے لیے نمونے لے لیے گئے ہیں، ملزم اعتراف کر چکاہے اس نے زیادتی کی ہے، ہماری نگاہ میں وہ مجرم ہے، خاتون اور اس کی بیٹی کو علاج کے لیے فوری طور پر سول لاڑکانہ منتقل کیا گیا۔

کشمور، ماں، بیٹی سے زیادتی کا ملزم جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

سندھ کے شہر کشمور میں ماں بیٹی سے زیادتی کے ملزم کو ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے ملزم کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ ہم سب کو پولیس افسر محمد بخش اور ان کی بیٹی کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے، محمد بخش کو قائد اعظم پولیس میڈل دینے کے لیے وفاقی حکومت کو خط لکھیں گے، پولیس افسر کی بیٹی کو بھی سول ایوارڈ کے لیے وفاق سے سفارش کی جائی گی۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سفاک عمل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ڈی این اے سیمپل لیے گئے ہیں، اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں رپورٹ آجائے گی، ڈاکٹروں کی مشاورت سےخاتون اور بچی کو کراچی منتقل کرنا پڑا توکریں گے، ایسے واقعات میں ملوث درندہ صفت افراد کو سخت سے سخت سزا دلانا ہوگی۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *