Categories
Breaking news

کراچی کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری

Advertisement

کراچی کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے، گرمی میں گھنٹوں بجلی کے تعطل سے شہری اذیت میں مبتلا ہیں، لیاقت آباد، کھارادر، فیڈرل بی ایریا، گلستان جوہر، شاہ فیصل کالونی، کیماڑی، گلشن اقبال سمیت کئی علاقے لوڈ شیڈنگ سے متاثر ہیں۔

کے الیکٹرک کے افسرِ اعلیٰ نے گورنر سندھ کو بجلی کی صورتِحال میں کل تک بہتری لانے کی یقین دہانی کرادی ہے، لیکن آج تو صورتِحال یہ ہے کہ گرمی کے دن اور بجلی کی قلت ہے۔

ساکنانِ شہر قائد پر عجیب مصیبت کے دن ہیں، ایندھن کی قلت ہے، یا انتظام کرنے والوں کی نااہلی ہے، وجہ کچھ ہو حاصل یہ ہے کہ عوام مشکل میں ہیں۔

کراچی میں گرمی کے ساتھ ہی بجلی کی طلب بڑھی ہے اور شہر کی بجلی کمپنی فرنس آئل کی قلت اور بجلی کی چوری کا رونا رورہی ہے۔

حکومت نے گذشتہ ہفتے ہی فرنس آئل درآمد کرنےکی اجازت دی ہے، لیکن بجلی چوری کیوں ہورہی ہے۔

کھارادر میں بھی جنریٹرز کا شور، دروازوں پر آویزاں بجلی کے بل اور گرمی کے ستائے لوگ پریشان بیٹھے ہوئے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی پوری رات گھر پر نہیں تھی۔

لوڈشیڈنگ پر گورنر کی برہمی

گورنر سندھ عمران اسماعیل سے کے۔الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو مونس عبداللّٰہ نے کراچی میں ملاقات کی۔

ترجمان گورنر ہاؤس کے مطابق اس موقع پر گورنرسندھ عمران اسماعیل نے شہر میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کراچی کے شہریوں کے ساتھ نا انصافی ہے، صورتحال کا تدارک کرکے لوگوں کو جلد از ریلیف دیا جائے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے کے۔الیکٹرک کو اضافی گیس مہیا کی جارہی ہے، اس کے باوجود اس طرح کی صورتحال کا پیدا ہونا تشویشناک ہے۔

گورنر عمران اسماعیل نے کہا کہ کے۔الیکٹرک کو اضافی فرنس آئل حبکو سے مہیا کیا جائے گا، وفاق کے۔الیکٹرک کو 650 میگا واٹ بجلی فراہم کرنے کا پابند ہے، شہریوں کی سہولت کے لئے وفاق اضافی 500 میگا واٹ بجلی دینے کو تیار ہے۔

سی ای او کے۔الیکٹرک نے کہا کہ فرنس آئل کی کمی کی وجہ سے دو پاور پلانٹ بند ہیں، وفاق سے اضافی فرنس آئل ملنے سے بجلی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

ترجمان گورنر ہاؤس کے مطابق سی ای او کے الیکٹرک نے اس موقع پر 24 گھنٹوں میں بہتری کی یقین دہانی کرائی اور گورنر سندھ کو یقین دلایا کہ کے۔الیکٹرک 48 گھنٹوں میں لوڈشیڈنگ پر قابوپالے گا۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *