Categories
Breaking news

کراچی: بینک محافظ ڈاکو نکلا، 50 لاکھ کی ڈکیتی کروا دی

کراچی میں شاہراہ فیصل پر بینک کا محافظ ہی ڈاکوؤں کا ساتھی نکلا جس نے بڑی رقم کی اطلاع دے کر 50 لاکھ روپے کی ڈکیتی کروائی۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ایسٹ عبدالرحیم شیرازی کے مطابق رواں سال 16 نومبر کو شاہراہ فیصل پر ایف ٹی سی بلڈنگ میں واقع بینک سے نجی کمپنی کے مالک کے امتیاز احمد نے 51 لاکھ روپے نکلوائے تھے، وہ اپنے دفتر کے ملازمین کے ہمراہ گاڑی میں رقم لے کر پی ای سی ایچ سوسائٹی بلاک 6 میں واقع اپنے دفتر آئے تو 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 3 مسلح ملزمان نے انہیں دفتر کے گیراج میں گھس کر یرغمال بنا لیا تھا اور رقم لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔

عبدالرحیم شیرازی کے مطابق اس سلسلے میں ٹیپو سلطان پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی، دوران تفتیش جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کے برقی رابطوں کا سراغ لگایا، تو ایف ٹی سی بلڈنگ میں واقع اسی بینک کا سیکیورٹی سپروائزر خاور خان ڈاکوؤں کا رابطہ کار نکلا۔

ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق شواہد ملنے پر سیکیورٹی سپروائزر خاور خان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ اس نے کمپنی مالک کے پاس بڑی رقم ہونے کی اطلاع اپنے ساتھی ملزمان کو دی تھی۔

ایس ایچ او ٹیپو سلطان عظمیٰ خان کے مطابق اس واردات کا مرکزی ملزم شاکر عرف شاہد ہے جو اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ بینک کے باہر موجود تھا اور سیکیورٹی سپروائزر خاور خان کی کال پر رقم لے جانے والی گاڑی کا تعاقب شروع کیا، ملزمان نے بینک سے تعاقب کر کے واردات کی تھی۔

پولیس تفتیش کے مطابق واردات کا مرکزی ملزم شاکر عرف شاہد لانڈھی کی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہے، گرفتار ملزم خاور خان کورنگی کا رہائشی ہے جو پہلے بھی واردات میں گرفتار ہو چکا ہے، ملزم شاکر سے اس کی ملاقات جیل میں ہوئی تھی۔

رہائی کے بعد وہ پھر رابطے میں آگئے، واردات سے ایک دن قبل ملزم شاکر عرف شاہد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایف ٹی سی بلڈنگ آیا تھا۔

ملزم خاور خان کے بیان کے مطابق بڑی رقم کی اطلاع دینے کی صورت میں ملزم نے اچھی رقم حصے میں دینے کی آفر دی تھی۔

ملزم کے مطابق ملزم شاکر نے اس کی نشاندہی پر 50 لاکھ روپے کی ڈکیتی کی مگر فون پر صرف 20 لاکھ روپے ہاتھ لگنے کا بتایا۔

ملزم کے مطابق اس نے شاکر سے حصے کی رقم مانگی تو شاکر نے موبائل فون بند کر دیا۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *