Categories
Breaking news

پی ٹی آئی کے اندر اختلافات پر وزیراعظم کا نوٹس

Advertisement
پی ٹی آئی کے اندر اختلافات پر وزیراعظم کا نوٹس

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر اختلافات پر وزیر اعظم نے نوٹس لے لیا۔ وزیراعظم نے حکومتی ارکان اسمبلی سے براہ راست بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم حکومتی ارکان اسمبلی سے آج ملاقاتیں کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنے چیمبر میں ارکان سے ملیں گے، ملاقاتوں میں پارٹی امور اور تحفظات پر بات ہوگی۔

یاد رہے کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیرفواد چوہدری نے اپنی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پی ٹی آئی میں کس کی کس سے نہیں بنتی اور کس نے کس کی چھٹی کرائی ہے۔

ایک غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو میں فواد چوہدری نے کہا تھا کہ اسد عمر کی وزارت جانے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا، انہوں نے بتایا کہ پہلے جہانگیر ترین نے اسد عمر کو نکلوایا اور پھر اسد عمر نے جہانگیر ترین کی چھٹی کرا دی۔

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو جہانگیر ترین، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کے اختلافات اتنے بڑھے کہ پولیٹیکل کلاس سارے کھیل سے ہی باہر ہوگئی۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے فواد چوہدری کے بیان پر کہا تھا کہ کابینہ کی اندرونی گفتگو پر میڈیا میں بحث کرنا نامناسب ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ وفاقی وزیر کو سمجھنا چاہیے کہ پارٹی معاملات پر بات کرنے کےلیے پارٹی کا فورم موجود ہے۔

سینئر وزیر پنجاب علیم خان نے کہا کہ سب کو اپنے دل کی حق سچ بات کہنی چاہیے، مگر گھر کی بات گھر میں ہی رہنی چاہیے، اختلافات پر رائے کا اظہار باہر نہیں ہونا چاہیے۔

PTI میں کس نے کس کی چھٹی کرائی، فواد چوہدری نے بتا دیا

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اپنی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے بارے میں پول پٹیاں کھول دی ہیں کہ پی ٹی آئی میں کس کی کس سے نہیں بنتی اور کس نے کس کی چھٹی کرائی ہے۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا موقف ہے کہ ان کے بیان کو مقامی میڈیا میں سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو بھی بات کی وہ ماضی میں پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں کی ہے۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *