Categories
Breaking news

پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ سے متعلق رپورٹ پر جے آئی ٹی بنائی جائے : پی پی پی

 پی پی پی سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور پلوشہ خانپاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے سینیٹرز نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی فارن فنڈنگ سے متعلق رپورٹ پر جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے پی ٹی آئی کو اگلے انتخابات کے لیے نئی جماعت رجسٹر کروانی پڑے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی پی پی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے رہتے ہیں، انہوں نے جتنے مقدمات بنائے ہیں، ان میں پیش ہوتے رہتےہیں لیکن یہ خود غائب ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ہماری ایسی کوئی چیز نہیں ہے، پی پی پی واحد جماعت ہے جس کے بارے میں سارے بینکوں نے لکھ کر دیا ہے کہ فارن فنڈنگ نہیں لی ہے۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ میرا چیلنج ہے کہ کوئی بھی پارٹی بینک سے سرٹیفیکیٹ لا کر بتادے کہ اس نے کبھی فارن فنڈنگ نہیں لی، ہم نے اپنے اکاؤنٹس کی تفصیلات دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ میں شروع دن سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ہے جبکہ دیگر جماعتیں 50 سال پرانی ہیں، ان پر کسی نے الزام نہیں لگایا لیکن پی ٹی آئی پر کسی سیاسی جماعت نے نہیں بلکہ ان کے اپنے رکن نے فارن فنڈنگ کا الزام لگایااور کہا فارن فنڈنگ ڈیکلیئر نہیں کی اور کھا گئے ہیں اور اکاؤنٹس چھپائے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی بیلنس شیٹ پر آڈیٹرنے دستخط نہیں کیے بلکہ پی ٹی آئی چیئرمین خود دستخط کرتے رہے ہیں، یہ بہت بڑا بحران ہے۔

پی پی پی سینیٹر نے کہا کہ میرا نہیں خیال پی ٹی آئی اس سے بچ پائے، اب الیکشن کمیشن کو اس مسئلے پر فیصلہ کرنا ہوگا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بارے میں فیصلہ کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے لیکن جو چیزیں باہر آئی ہیں، اس سے کمیشن کے ہاتھ بندھ جائیں گے اور ان کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا یہ جماعت انتخابات کے لیے اہل ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن اس پارٹی پر پابندی عائد کرے اور ہوسکتا ہے انہیں انتخابات کے لیے نئی جماعت رجسٹر کروانی پڑے کیونکہ یہ واضح کیس ہے، ای سی پی سے اکاؤنٹس اور پیسے چھپانا سنجیدہ کیس ہے اور اس کی سزا تعین کردی گئی ہے۔

اس موقع پر سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کو فنڈ دینے والوں کی شناخت آشکار ہونا بہت ضروری ہے کہ کیوں غیرملکی لوگ پاکستان میں عمران خان کو فنڈنگ کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح پاناما اور جعلی اکاؤنٹس کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنائی گئی اسی طرح کی جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کا صرف ایک مقصد ہو کہ یہ پتہ چلے کہ یہ لوگ کون ہیں جن سے پیسے لیے گئے، اس کی کیا حقیقت ہے اور کس کی ایما پر یہ سب کچھ ہوتا رہا ہے۔

پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ دو دہائی قبل حکیم سعید اور ڈاکٹر اسرار نے جس کی پیش گوئی کی تھی آج وہی کچھ ہو رہا ہے لہٰذا اس سے پردہ اٹھنا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پوچھنا چاہتے ہیں آئی ایم ایف کے کہنے پر 22 کروڑ لوگوں میں 350 ارب کا پھندا ڈالا ہے اور آج صبح سے جس کو فون کریں رنگ ٹون پر بھیک کے مسیج لگے ہوئے ہیں، جس کی اجازت سے پاکستان کے عوام کی رنگ ٹون پر بھکاریوں کے مسیج لگ گئے ہیں، یہ 22 کروڑ عوام کو اپنی طرح بھکاری بنانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس میسج کو مسترد کرتے ہیں اور موبائل کمپنیوں سے مطالبہ کرتےہیں کہ یہ رنگ ٹون نہ چلائیں۔

پلوشہ خان نے کہا کہ اس ٹولے کی حقیقت آشکار کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل بنے اور اسی طرح فوری نتائج سامنے آئے اور پاکستان کے عوام کا حق ہے کہ ای سی پی کی رپورٹ کے بعد انہیں حقائق سے آگاہ کیا جائے۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اسکروٹنی کمیٹی کی تیار کردہ تہلکہ خیز رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ پی ٹی آئی نے غیر ملکی شہریوں اور کمپنیوں سے فنڈز حاصل کیے، فنڈز کو کم دکھایا اور درجنوں بینک اکاؤنٹس چھپائے۔

کمیٹی کی رپورٹ میں پارٹی کی جانب سے بڑی ٹرانزیکشنز کی تفصیلات بتانے سے انکار اور پی ٹی آئی کے غیر ملکی اکاؤنٹس اور بیرون ملک جمع کیے گئے فنڈز کی تفصیلات حاصل کرنے میں کمیٹی کی بے بسی کا بھی ذکر ہے۔

رپورٹ کے مطابق پارٹی نے مالی سال 10-2009 اور 13-2012 کے درمیان چار سال کی مدت میں 31 کروڑ 20 لاکھ روپے کی رقم کم ظاہر کی، سال کے حساب سے تفصیلات بتاتی ہیں کہ صرف مالی سال 13-2012 میں 14 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم کم رپورٹ کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 'پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس پر اس مدت کے لیے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی رائے کے جائزے میں رپورٹنگ کے اصولوں اور معیارات سے کسی انحراف کی نشاندہی نہیں ہوئی'۔

اسکروٹنی کمیٹی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے دستخط شدہ سرٹیفکیٹ پر بھی سوالیہ نشان ہے، جسے پی ٹی آئی کے آڈٹ شدہ اکاؤنٹس کی تفصیلات کے ساتھ جمع کرایا گیا تھا۔

رپورٹ میں پی ٹی آئی کے چار ملازمین کو ان کے ذاتی اکاؤنٹس میں چندہ وصول کرنے کی اجازت دینے کے تنازع کا بھی حوالہ دیا گیا لیکن کہا گیا ہے کہ ان کے اکاؤنٹس کی چھان بین کرنا کمیٹی کے دائرہ کار سے باہر تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.