Categories
Breaking news

پینشن کا بوجھ بڑھ رہا ہے، ریفارمز کے متعلق غور کررہے ہیں، شفقت محمود

Advertisement
جنگ نیوز

وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ پینشن کا بوجھ بڑھ رہا ہے، ریفارمز کے متعلق غور کررہے ہیں، پینشن والے اداروں کے ملازمین کو پینشن ملتی رہے گی۔

Advertisement

شفقت محمود نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ کل وفاقی کابینہ اجلاس میں بڑی تفصیل سے سول سروس کی ریفارمز پر بات ہوئی، وزیراعظم عمران خان نے اداراجاتی ریفارمز کے لیے کابینہ کی کمیٹی بنائی ہے، ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد کم کرنے کی کوئی تجویز زیرغور نہیں آئی ہے۔

Table of Contents

x
Advertisement

شفقت محمود نے کہا ہے کہ اس کمیٹی کا مقصد اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنا ہے، اگر کسی سرکاری ملازم پر نیب یا ایف آئی اے میں کیس ہے تو اسے پروموٹ نہیں کیا جائے گا، صوبوں میں روٹیشن پالیسی بنائی گی ہے۔

شفقت محمود نے کہا ہے کہ اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جو کام نہیں کرتے ان کے بارے میں کیا پالیسی ہوگی، جن کی سالانہ رپورٹ اوسط درجے سے نیچے ہیں ان کو ریٹائر کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پلی بارگین کرنے والے افسران کو بھی ریٹائر کیا جائے گا، جو کرپٹ ہیں یا جن میں اور خامیاں ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جتنی انکوائریوں میں تاخیر ہوتی تھی وہ اب نہیں ہوگی۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیٹی 60 دنوں میں فیصلہ کرے گی، پلی بارگین کرنے والے کو ریٹائر کیا جاسکتا ہے، اس کے خلاف انکوائری اور کارروائی ہوگی۔

شفقت محمود نے کہا ہے کہ آخری فیصلہ کرنے سے پہلے اتھارٹی انہیں پرسنل ہیئرنگ کا موقع دے گی، اب ایک انکوائری میں ساری چیزیں اکٹھی ہوں گی، ایم پی اسکیل میں 3 سال کا عرصہ کردیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پولیس اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس والے دس دس سال ایک صوبے میں بیٹھے رہتے تھے، اب روٹیشن پالیسی کے تحت ایک صوبے کے علاوہ وفاق میں نوکری کرنا لازم ہوگا، کوئی بھی افسر کسی بھی صوبے میں 10 سال سے زیادہ نہیں رہ سکے گا۔

شفقت محمود نے کہا ہے کہ اگر کوئی افسر صوبے میں 10 سال سے زیادہ رہے گا تو اس کی گریڈ 21 میں ترقی نہیں ہوگی۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *