Categories
Breaking news

پنجاب اسمبلی توڑنے کی بات ہم تک بھی آئی ہے، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی توڑنے کی بات اُن تک بھی آئی ہے، یہ بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان پر نظر ہے، وفاق میں عدم اعتماد کے بعد پنجاب کی باری ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ ہم نکل چکے ہیں اور عوام کا جم غفیر ساتھ ہے، جی ٹی روڈ سے ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے، عوام نے عمران خان پر عدم اعتماد کردیا ہے، عمران خان کو مشورہ ہے کہ استعفیٰ دیں اور عوام سے معافی مانگیں۔

شہباز گل نے پنجاب اسمبلی توڑنے کی سمری کی تردید کردی

ذرائع وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے حکم پر صوبائی اسمبلی تحلیل کی جاسکتی ہے۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ پنجاب میں بالخصوص اور ملک میں بھی ضمنی الیکشنز تحریک انصاف ہاری ہے، عمران نیازی صاحب انا کے پہاڑ کو چھوڑیں اور عوام سے پوچھیں، عوام کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے، عمران خان کے دن گنے جاچکے ہیں وہ جانے والے ہیں۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ بہت بڑی خوشخبری آنے والی ہے سونامی سے عوام کو چھٹکارہ حاصل ہوگا، یہ شخص قومی امور پر بھی سیاسی جماعتوں کو اکٹھا نہیں کرسکا، ہم عمران خان سے اب کوئی بات نہیں کرنا چاہتے یہ استعفیٰ دیں۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا واحد حل آزاد اور شفاف انتخابات ہیں، اسمبلی توڑنے کی بات مجھ تک بھی آئی ہے، اس طرح یہ بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں ہماری ان پر نظر ہے۔

ن لیگ کے مارچ کے دوران راستے میں سائن بورڈ آگیا

کنٹینر پر موجود مریم نواز، حمزہ شہباز، مریم اورنگزیب اور دیگر شرکاء کو کچھ لمحوں کے لیے نیچے ہونا پڑا۔

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ وفاق میں عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پنجاب میں بھی باری آئے گی، ہمارا مقصد سونامی اور اس تباہی سے عوام کی جان چھڑانا ہے، کرپشن کا بازار گرم ہوگا اور بنی گالہ سے اس کی پشت پناہی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے کیس میں جیل میں رہا، یہ سارے کیسز جھوٹے تھے، فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان نے شواہد چھپائے منی لانڈرنگ کی، فارن فنڈنگ کیس میں عمران نیازی چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ شہزاد اکبر آج کہاں ہیں جو ٹی وی پر دعوے کرتے تھے۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published.