Categories
Breaking news

پشاور کے خیبر ٹیچنگ اسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سات مریض جاں بحق

Advertisement

خیبر ٹیچنگ اسپتال

خیبر ٹیچنگ اسپتال میں آکسیجن سلنڈرز کی کمی کے باعث 7 مریض انتقال کر گئے۔

پشاور کے خیبر ٹیچنگ اسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سات مریض جاں بحق ہو گئے، مریضوں کی اموات کا واقعہ گزشتہ رات پیش آیا۔

ترجمان خیبر ٹیچنگ اسپتال کا کہنا ہے کہ آکسیجن ٹینکر راولپنڈی سے لائے جاتے ہیں، ناگزیر وجوہ سے سلنڈر سپلائی میں تاخیر ہوئی، جس کے باعث چند مریض انتقال کر گئے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق 3 سے 4 مریضوں کا انتقال ہوا ہے۔ اسپتال ذرایع کا کہنا ہے کہ آکسیجن پلانٹ میں آکسیجن بروقت کیوں موجود نہیں تھا، اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔

اسپتال ذرایع کے مطابق بی او سی نامی کمپنی آکسیجن سلنڈر سپلائی کرتی ہے، سپلائی میں تاخیر کی وجہ سے سانحہ رونما ہوا۔ ادھر خیبر ٹیچنگ اسپتال بورڈ آف گورنرز نے انتظامی سربراہان کا اہم اجلاس بلا لیا ہے، جس میں واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

وزیر صحت کے پی تیمور جھگڑا نے واقعے کے بعد ٹویٹ میں کہا کہ آکسیجن کی عدم دستیابی پر رونما ہونے والے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا، 48 گھنٹوں کے اندر واقعے پر کارروائی کی ہدایت کی ہے، تحقیقات اطمینان بخش نہیں ہوئیں تو حکومت انکوائری کا حکم دے گی۔

انھوں نے کہا اسپتال میں آکسیجن کی فراہمی میں کمی کا واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا، یا تو آکسیجن فراہمی میں مسئلہ تھا یا غفلت ہوئی، واقعے کی مکمل تفصیلات آنے کا انتظار کیا جائے، انتقال کرنے والے مریضوں کی تعداد سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا، زیادہ تر آکسیجن سلنڈر پر کرونا کے مریض ہیں۔

ادھر وزیر اعلیٰ کے پی نے کے ٹی ایچ میں آکسیجن کی کمی سے مریضوں کی اموات کا نوٹس لے لیا ہے، محمود خان نے اسپتال کے بورڈ آف گورنرز سے تحقیقات کرانے کی ہدایت کر دی ہے، انھوں نے کہا 48 گھنٹوں میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے، واقعہ متعلقہ ذمہ داروں کی غفلت اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ ہے۔

1. There was an incident at KTH last night involving a shortage of oxygen supply.
I have directed the BoG to conduct an immediate inquiry & take action within 48 hours. If found unsatisfactory, or if otherwise required, the govt will immediately order its own independent inquiry.

— Taimur Khan Jhagra (@Jhagra) December 6, 2020

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *