Categories
Breaking news

پریانتھا کمارا کی میت پوسٹ مارٹم کے بعد لاہور روانہ کردی گئی

پریانتھا کمارا کی میت پوسٹ مارٹم کے بعد لاہور روانہ کردی گئی

پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں فیکٹری ملازم کے ہاتھوں تشدد کے بعد قتل ہونے والے سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کی میت پوسٹ مارٹم کے بعد ایمبولینس سے لاہور روانہ کردی گئی۔

ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ پریانتھا کی لاش ایمبولینس کے ذریعے لاہور روانہ کردی گئی، ایمبولینس کے ہمراہ ایلیٹ فورس کی دو گاڑیاں بھی روانہ کی گئی ہیں۔

سانحہ سیالکوٹ: مرکزی ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا

جن میں تیرہ مرکزی ملزمان ہیں مرکزی ملزمان طلحہ اور فرحان نے پولیس کے سامنے بھی اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔

ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ پریانتھا کی لاش لاہور میں سری لنکن قونصلیٹ کے حوالے کی جائے گی، جبکہ قانونی کارروائی کے بعد خصوصی پرواز کے ذریعے پریانتھا کی لاش سری لنکا روانہ کی جائے گی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پریا نتھا کی لاش پیر کی صبح کولمبو روانہ کی جائے گی۔

پولیس تحقیقات میں کئی بڑے انکشافات

سیالکوٹ میں غیر ملکی فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا کے قتل کی پولیس تحقیقات میں کئی بڑے انکشافات سامنے آگئے۔

پولیس تحقیقات کے مطابق پریانتھا کمارا فیکٹری میں بطور جنرل منیجر پروڈکشن ایمانداری سے کام کرتا تھا، ورکرز اور دوسرا عملہ غیرملکی منیجر کو سخت ناپسند کرتے تھے۔

سیالکوٹ میں درندوں کے ہجوم میں ایک اور انسان سامنے آگیا

دونوں افراد پریانتھا کو بچانے کی بھرپور کوشش کرتے رہے، مگر افسوس کہ دونوں ہی ناکام رہے۔

پولیس کے مطابق پریانتھا اور فیکٹری کے دوسرے عملے میں اکثر تکرار ہوتی رہتی تھی، پریانتھا کے خلاف ورکرز اور سپروائزر نے مالکان سے کئی بار شکایت بھی کی تھی۔

تحقیقات کے مطابق واقعہ کے روز پریانتھا کمارا نے پروڈکشن یونٹ کا اچانک دورہ کیا تھا اور صفائی کی ناقص صورتحال پر ورکرز اور سپروائزر کی سرزنش کی تھی۔

پریانتھا کمارا کی فیملی سے سری لنکن وزراء کی ملاقات، انصاف کی یقین دہانی

سری لنکن ٹور ازم کے وزیر پرشنا رانا ٹنگا اور کھیلوں کے وزیر نمل راجا پکسا نے پریانتھا کمارا کے گھر والوں سے ملاقات کی۔

پولیس کے مطابق فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا نے ورکرز کو دیواروں پر رنگ کے لیے تمام اشیاء ہٹانے کا کہا تھا اور خود بھی دیواروں سے چیزیں ہٹاتا رہا، اسی دوران مذہبی پوسٹر بھی اتارا۔

تحقیقات کے مطابق پوسٹر اتارنے پر ورکرز نے شور مچایا تو مالکان کے کہنے پر پریانتھا کمارا نے معذرت کرلی تھی، جس سپروائزر کی پریانتھا نے سرزنش کی اسی نے بعد میں ورکرز کو اشتعال دلایا تھا۔

پولیس کے مطابق پریانتھا کمارا فیکٹری میں بطور جنرل منیجر پروڈکشن ایمانداری سے کام کرتا تھا اور قوانین پر سختی سے عمل درآمدر کراتا تھا، فیکٹری مالکان اس کےکام سے خوش تھے۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published.