Categories
Breaking news

پریانتھا کمارا جان بچانے بالائی منزل پر بھاگے، ورکرز نے چھت پر گھیر لیا

پریانتھا کمارا جان بچانے بالائی منزل پر بھاگے، ورکرز نے چھت پر گھیر لیا

سیالکوٹ کی فیکٹری کا منیجر پریانتھا کمارا جان بچانے بالائی منزل پر بھاگا لکین فیکٹری ورکرز نے چھت پر گھیر لیا، مار مار کر بے دم کردیا، انسانیت سوز خونی کھیل کو فیکٹری گارڈ روکنے میں ناکام رہے۔

سیالکوٹ میں وحشی درندوں نے دن دہاڑے ایک انسان کا لاتیں گھونسے، ڈنڈے مار کر خون کردیا، لاش کو آگ لگا دی، اسپورٹس گارمنٹ فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا۔

فیکٹری ورکرز منیجر کو مارتے ہوئے نیچے لائے، مار مار کر جان سے ہی مار دیا۔

پرانتھا کمارا کے حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، فیکٹری مالک

فیکٹری مالک نے کہا کہ جب اس معاملے کی اطلاع ملی تب تک پرانتھا کمارا ہجوم کے ہتھےچڑھ گیا تھا۔

پولیس نے لوگوں کو اشتعال دلانے اور قتل کا اعتراف کرنے والے ایک ملزم فرحان کو گرفتار کرلیا۔

فیکٹری مالک کا کہنا ہے کہ پرانتھا کمارا نے 2013 میں بطور جی ایم پروڈکشن جوائن کیا تھا، پرانتھا کمارا محنتی اور ایماندار پروڈکشن منیجر تھے۔

سیالکوٹ: غیرملکی منیجر کو مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کرنے پر قتل کردیا گیا

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔

فیکٹری مالک نے کہا کہ جب اس معاملے کی اطلاع ملی تب تک پرانتھا کمارا ہجوم کے ہتھےچڑھ گیا تھا۔

فیکٹری مالک کا کہنا ہے کہ پولیس کو تقریباً صبح پونے 11 بجے اطلاع دی تھی، جب پولیس پہنچی تو نفری کم تھی۔

سری لنکن منیجر کو زندہ جلانے کا واقعہ پاکستان کے لیے شرم کا دن ہے، وزیراعظم

عمران خان نے کہا کہ واقعےمیں ملوث افراد کو قانون کےمطابق سخت سزا دی جائےگی۔

سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کے سری لنکن منیجر کو تشدد کے بعد آگ لگانے کے افسوس ناک واقعے میں وہاں موجود گروہ کی بے حسی بھی سامنے آگئی، ہجوم کو روکنا تو دور، ان میں موجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد تشدد کی ویڈیو بناتی رہی۔

کئی افراد تصویریں اور سیلفیز لیتے ہوئے بھی نظر آئے، مشتعل گروہ فیکٹری منیجر کی لاش پر بھی تشدد کرنے سے باز نہ آیا، دیکھنے والوں میں سے کئی لوگوں نے چھتوں پر چڑھ کر تشدد کی ویڈیو بنائی جبکہ کچھ لوگ خاموش تماشائی بنے رہے۔

پہلے بھی تشدد کے متعدد واقعات میں عوام مدد کرنے کے بجائے ویڈیوز بناتے ہوئے نظر آئے، دیکھنے والوں نے مدد کرنے اور ہجوم کو روکنے کے بجائے ویڈیوز بنانے کو ترجیح دی۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published.