Categories
Breaking news

پاکستان نیول اکیڈمی میں کمیشننگ پریڈ کا انعقاد

Advertisement
پاکستان نیول اکیڈمی میں  کمیشننگ پریڈ کا انعقاد

پاکستان بحریہ کی 113 ویں مڈ شپ مین اور 22 ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پاسنگ آوٹ پریڈ کا انعقاد پاکستان نیول اکیڈمی کراچی میں ہوا۔ کمیشننگ ٹرم 100 مڈ شپ مین اور شارٹ سروس کمیشن کے 65 کیڈٹس پر مشتمل تھی۔

تقریب کے مہمان خصوصی وائس ایڈمرل آصف خالق کمانڈر پاکستان فلیٹ تھے۔ پاکستان نیول اکیڈمی آمد پر پاک بحریہ کے کمانڈر کراچی وائس ایڈمرل زاہد الیاس نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔

مہمان خصوصی نے اپنے خطاب میں کمیشننگ ٹرم کو پاکستان کی بحری سرحدوں کے محافظ بننے پر مبارکباد پیش کی۔

پاکستان نیول اکیڈمی میں  کمیشننگ پریڈ کا انعقاد

مہمان خصوصی نے کمیشن حاصل کرنے والے افسران کو ملکی سرحدوں کی حفاظت کا مقدس فریضہ ملنے پر اللہ تعالی کا شکر بجا لانے اور اس ذمہ داری کی انجام دہی میں ہر وقت سینہ سپر رہنے اور اپنے آباء کی شاندار روایات کی پاسداری کرتے ہوئے قوم کی توقعات اور امنگوں پر پورا اترنے کی تاکید کی۔

مہمان خصوصی نے پاکستان نیول اکیڈمی میں تربیت پانے والے برادر ممالک کے مڈ شپ مین کی بھی تعریف کی جو کہ وبائی مرض کرونا کے باعث اس پروقار تقریب میں شمولت اختیار نہیں کر سکے۔

مہمان خصوصی نے پاک بحریہ کی جانب سے حال ہی میں اپنے بحری بیڑے میں شامل کئے گئے جدید جہازوں کا بھی ذکر کیا اور افسروں کو عصر حاضر کی جدید جنگی ٹیکنالوجی اور خطے کی جیو اسٹریٹجک صورتحال سے ہم آہنگ رہنے اور پیشہ وارانہ مہارت حاصل کرنے کی ہدایت کی۔

پاکستان نیول اکیڈمی میں  کمیشننگ پریڈ کا انعقاد

مہمان خصوصی نے مسلح افواج کی کاوشوں اور قربانیوں کا اعتراف کیا اور دشمن کی جانب سے درپیش کسی بھی خطرے کے خلاف قومی خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اُن کے جذے کو سراہا۔

کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وائس ایڈمرل آصف خالق نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتے ہوئے اور آرٹیکل 370 کی یک طرفہ اور غیر قانونی معطلی کی شدید انداز میں مذمت کی۔

مزید براں مہمان خصوصی نے کہا کے دشمن کی اپنے ہی ملک اور پوری دنیا میں جگ ہنسائی اور اشتعال انگیزیوں نے ہماری مسلح افواج پر دفاعی اور جنگی اعتبار سے ہمہ وقت تیار رہنے کی ذمہ داری کو بڑھا دیا ہے۔

پاکستان نیول اکیڈمی میں  کمیشننگ پریڈ کا انعقاد

اس سے قبل اپنے استقبالیہ خطاب میں کمانڈنٹ پاکستان نیول اکیڈمی نے افسران کی اعلی تربیت کی نمایاں خصوصیات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ برادر ممالک کا پاکستان نیول اکیڈمی پر اعتبار اسی پیشہ ورانہ تربیت کا مظہر ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ ملک کی سا لمیت، عزت اور مفاد کو اولین اور اہم رکھیں کیونکہ یہی جذبہ پاکستان بحریہ کا خاصہ ہے۔

بعد ازاں مہمان خصوصی نے پوزیشن حاصل کرنے والے کیڈٹس اور مڈشپ مین میں انعامات تقسیم کئے۔

لیفٹیننٹ ارسلان طارق نے قائد اعظم گولڈ میڈل حاصل کیا۔ مڈشپ مین عبدالرحمان نے اعزازی شمشیر جبکہ مڈ شپ مین احمد اقبال بزمی نے ’اکیڈمی ڈرک‘جیتی۔

افسر کیڈٹ محمد حسن جلال نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی گولڈ میڈل اور شارٹ سروس کورس کے آفیسر کیڈٹ محمد عثمان خان نے کمانڈنٹ گولڈ میڈل جیتا جبکہ مین ٹاپ اسکواڈرن پرافیشنسی بینر کا ایک بار پھر فاتح رہا۔

وبائی مرض کورونا کے باعث تقریب میں محدود تعداد میں مہمانوں نے شرکت کی۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *