Categories
Breaking news

پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر جے یو آئی کے 4 ارکان کی بنیادی رکنیت ختم

Advertisement

پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر جے یو آئی کے 4 ارکان کی بنیادی رکنیت ختم

جمیعت علمائے اسلام (ف) کی پارٹی ڈسپلنری کمیٹی نے پالیسی سے انحراف کرنے والے اراکین کی بنیادی رکنیت ختم کر دی ہے۔مولانا محمد خان شیرانی، حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب اورمولانا شجاع الملک کی بنیادی رکنیت ختم کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق چاروں رہنماؤں کو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر رکنیت ختم کرکے پارٹی سے نکالا گیا۔کمیٹی جلد بنیادی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کرے گی۔

اطلاعات ہیں کہ فیصلہ آغا ایوب شاہ، مولانا عبدالواسیع اور مولانا عبدالحکیم اکبری سمیت دیگر نے کیا۔ نوٹیفکیشن میں یہ ہدایت بھی جاری کی جائے گی منحرف اراکین کے ساتھ ملاقات کرنے والوں کی پارٹی رکنیت بھی ختم کر دی جائے گی۔

خیال رہے گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل مولانا محمد خان شیرانی نے مولانا فضل الرحمان کو سلیکٹڈ کہا تھا۔

سینئررہنما کا کہنا تھا کہ میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر کے بلوچستان کے تمام اضلاع میں پارٹی کے دفاتر قائم کروں گا۔ انہوں نے حافظ حسین احمد کا نام لیتے ہوئے کہا وہ پرانے، عقلمند اور سمجھدار ساتھی ہیں۔

Advertisement

مردان سے جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا شجاع الملک نے بھی مولانا شیرانی کی تائید کی تھی۔

مولانا شجاع الملک نے کہا کہ پارٹی کے ادنیٰ کارکن کو بھی صورتحال کا علم ہے۔ پارٹی کی تنظیم سازی میں دھاندلی ہوئی، میں اس عمل سے گزرا ہوں۔

انہوں نے کہ سلیکٹڈ اورخیانت کے الفاظ مولانا شیرانی نے استعمال کیے، سلیکٹڈ وہ ہوتا ہے جو دھاندلی سے آئے۔ تنظیم کو ڈیزائن کیا گیا جمہوری طریقہ سے انتخاب کی بات درست نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حافظ حسین احمد بھی پارٹی کے اکابرین میں سے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے بیانیہ کے حوالے سے حافظ حسین نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

مولانا شجاع الملک نے کہا حافظ حسین احمد مجلس عاملہ کے رکن ہیں ان کو سننا چاہیے تھا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے جو بھی آواز اٹھائے گا اسے فارغ کیا جائے گا۔ جے یو آئی رہنما نے کہا کہ حافظ حسین احمد کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، وہ پرانے اکابرین میں سے ہیں۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *