Categories
Breaking news

ٹرین حادثہ کیسے ہوا، ڈرائیور نے سب بتا دیا

ٹرین حادثہ کیسے ہوا، ڈرائیور نے سب بتا دیا

ڈہرکی کے قریب پیش آئے افسوسناک حادثے کا شکار ہوئی ٹرین سرسید ایکسپریس کے ڈرائیور اعجاز احمد نے حادثے سے متعلق سب کچھ بتادیا ۔

سرسید ایکسپریس کے ڈرائیور اعجاز احمد نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حادثہ صبح 3 بجکر 45 منٹ پر ہوا، میں اور میرا اسسٹنٹ ڈرائیور افتخار چاک وچوبند تھے۔

ڈہرکی کے قریب ٹرین حادثہ، 30 جاں بحق

ڈہرکی کے قریب سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس میں تصادم کے باعث 30 افراد جاں بحق اور درجنوں مسافر زخمی ہوگئے۔

ڈرائیور اعجاز احمد کے مطابق ڈاؤن ٹریک پر اپنے سامنے بوگیاں گری دیکھ کر ہم نے ہنگامی بریک لگائی، تاہم اس کے باوجود حادثہ ہو گیا۔

ٹرین ڈرائیور کامزید کہنا تھا کہ سرسید ایکسپریس کی دو ایئرکنڈیشنڈ بزنس کلاس بوگیاں اور ایک ڈائیننگ کار حادثے میں متاثر ہوئی ہے جبکہ حادثے کا شکار ہوئی دوسری ٹرین ملت ایکسپریس کی 3 اے سی بزنس، 8 اکانومی کلاس بوگیاں ڈاؤن ٹریک پر گری ہیں۔

واضح رہے کہ حادثے کا شکار بدقسمت ٹرین ملت ایکسپریس کراچی سے سرگودھا جبکہ دوسری ٹرین سرسید ایکسپریس راولپنڈی سے کراچی جارہی تھی۔

وزیر ٹرانسپورٹ سندھ کا ٹرین حادثے میں جانی نقصان پر افسوس

وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اویس شاہ سمیت سیدقائم علی شاہ، اسماعیل راہو اور منظور وسان نے ڈھرکی کے قریب ٹرین حادثے میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے

حادثے کے بعد ملت ایکسپریس کی 8 اور سرسید ایکسپریس کی انجن سمیت 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، جبکہ کچھ بوگیاں کھائی میں جاگریں۔

حکام کا بتانا ہے کہ حادثے کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق اور درجنوں مسافر زخمی ہوئے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *