Categories
Breaking news

ٹرین حادثہ: میں اور ریلوے افسران ذمے دار ہیں، اعظم سواتی

ٹرین حادثہ، میں اور ریلوے افسران ذمے دار ہیں، اعظم سواتی

وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی واحد وزیر ہیں جو اپنے محکمے کے بجٹ سے مطمئن نظر آتے ہیں۔

اعظم سواتی نے لاہور ریلوے اسٹیشن پر کورونا ویکسی نیشن سینٹر کا افتتاح کیا، اس موقع میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے کے لیے بجٹ میں کوئی پریشانی نہیں۔

گھوٹکی ٹرین حادثے سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس معاملے پر پیر کو وزیراعظم عمران خان کو رپورٹ پیش کروں گا۔

انہوں نے کہاکہ ٹرین حادثے میں 63 قیمتی جانیں گئیں، میں اور ریلوے کے افسران اس کے ذمے دار ہیں۔

مانگے 100 روپے ملا 1 روپیہ، ڈی ایس سکھر کا چیف انجینئر کو جواب

ڈویژنل سپریٹنڈنٹ (ڈی ایس) ریلوے سکھر طارق لطیف نےچیف انجینئر ریلوے ہیڈ کوارٹر پر جوابی حملہ کردیا۔

چیف انجینئر ریلوے نے 4 جون کے مراسلے میں حادثے کا خدشہ ظاہر کیا تھا

چیف انجینئر ریلوے ہیڈ کوارٹر کا 4 جون کو لکھا گیا مراسلہ سامنے آگیا ہے، جس میں انہوں نے حادثے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

اعظم سواتی نے مزید کہا کہ افسر معطل کرکے پیغام دیا ہے کہ جو کوئی حادثہ کا ذمہ دار ہوا گھر جائے گا، ہم مجرموں کو نوکری سےنکال دیں گے، ان کے سارے بینیفٹ ضبط ہوں گے۔

ان کا کہنا تھاکہ وہ افسر قوم کے سامنے لائیں گے جس کی وجہ سے 63 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ ریلوے کے پنشنرز کا بجٹ اور اکاؤنٹ الگ کردیا گیا ہے، ہمیں محکمے کے بجٹ میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔

یادر رہے کہ چند روز قبل ریلوے سکھر ڈویژنل میں ٹرین کا المناک حادثہ رونما ہوا تھا، جس میں 63 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

اسے چیف انجینئر ریلوے ہیڈ کوارٹرز نے ڈی ایس ریلوے کو مراسلہ ارسال کیا تھا ،جس میں پورے فنڈز کی ادائیگی کا دعویٰ کرتے ہوئے واقعے کا سارا ملبہ ڈی ایس سکھر پر ڈال دیا تھا ۔

ڈی ایس سکھر ریلوے نے جیو نیوز سے گفتگو میں چیف انجینئر کے دعویٰ کی تردید کی اور کہا تھا کہ ہم نے مانگے 100 روپے تھے اور ہمیں دیا1 روپیہ گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان ریلوے فی الحال ایم ایل ون ، حادثے کی روک تھام کےلیے ریلوے ٹریکس کی مرمت ، عملے کی تنخواہوں اور شعبے میں جدت جیسے بڑے عوامل سے نبرد آزما ہے۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *