Categories
Breaking news

ووٹ کی آزادی بحال اور عوام کو معاشی آزادی دلانی ہے: بلاول بھٹو

Advertisement
Advertisement

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور آئی ایم ایف کی ڈیل کے نتیجے میں ہر پاکستانی کی سیاسی اور معاشی صورت حال پر ڈاکا ڈالا گیا ہے اور ہمیں پاکستان کے عوام کے لیے ووٹ کی آزادی بحال کرتے ہوئے انہیں معاشی آزادی بھی…

نوڈیرو میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے 50سال سے زائد عمر کے تمام افراد سے درخواست کی کہ وہ خود کو رجسٹر کرا کے ویکسین لگوائیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے والد آصف زرداری کو کورونا وائرس کی ویکسین لگوانے کے لیے بہت مشکل سے منایا تھا، انہوں نے پہلا شاٹ لگوا لیا ہے اور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ہر کارکن سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے بزرگوں کو لازمی کورونا وائرس کی ویکسین لگوائیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 50سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو کورونا وائرس کی ویکسین لازمی لگوانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی والد صدر آصف زرداری کو ویکسین لگوانے کے لیے بڑی مشکل سے منایا تھا۔

عوام کو مخاطب کرکے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اس صوبے کے عوام کی قربانی کی وجہ سے یہ وبا جب پہلے آئی تھی تو پابندیوں پر عمل کر کے آپ نے جس طرح خود کو تحفظ فراہم کیا تھا، اسی طرح ہم نے کورونا ویکسین پر زور دینا ہے تاکہ ہم اس وبا سے نکل سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف تمام پاکستانیوں کو اس وبا سے خطرہ ہے تو دوسری جانب ہم تین برسوں سے ایک حکومت کا مقابلہ کرتے آ رہے ہیں اور اس حکومت کو سلیکٹڈ کا نام آپ نے ہی دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ہماری انتخابی مہم ہی اس بات پر مبنی تھی کہ ان قوتوں کا مقابلہ ہے جن کی یہ کوشش ہے کہ کٹھ پتلی نظام لے کر آئیں لیکن اس نظام کو لانے کا مقصد کیا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ اس کٹھ پتلی نظام کو لانے کا مقصد یہ ہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 30سالہ جدوجہد کے نتیجے میں آپ نے ذوالفقار علی کے 1973 کے جس آئین کو بحال کیا اور جو کامیابیاں حاصل کیں، ان کو ختم کیا جا سکے اور اس کے لیے سازشیں آج بھی جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن، عہدیداران، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو سلام پیش کرتا ہوں جو ان ساری قوتوں کے دباؤ، سازشوں اور کوششوں کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے مؤقف اور اپنے نظریے پر قائم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ہر پاکستانی کو ووٹ کا حق دلوا کے، جمہوریت کی بنیاد ڈال کر سیاسی آزادی دلوائی اور غریب کو آواز، کسان کو زمین اور مزدور کو صنعت کا مالک بنا کر معاشی آزادی دلوائی اور آج بھی ہمیں پاکستان کے عوام کے لیے ناصرف سیاسی آزادی حاصل کرنی ہے، جمہوری آزادی حاصل کرنی ہے، بولنے، لکھنے اور سوچنے کی آزادی حاصل کرنی ہے جو ہر پاکستانی کا حق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ووٹ کی آزادی کو تحفظ دلانا ہے اور بحال کرنا ہے اور وہ معاشی آزادی بھی دلانی ہے جو ہر پاکستانی کا حق ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف اور آئی ایم ایف کی ڈیل کے نتیجے میں ہر پاکستانی کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، تو آج ہر پاکستانی کو ہمیں مہنگائی، بیروزگاری، غربت سے آزادی دلانی پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ یہ کہتی ہے کہ جمہوری و انسانی حقوق کی بات ہو یا معاشی حقوق کی بات ہو، اگر پاکستان کے عوام کو یہ حقوق ملے ہیں تو صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں ملے ہیں اور کسی دور میں نہیں ملے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان جیسے باصلاحیت ملک پر اتنا نالائق، ناٖاہل اور کٹھ پتلی مسلط کیا گیا ہے کہ جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو پچھلے تین سال میں جتنا نقصان پہنچا، پاکستان کی تاریخ میں معیشت کو کبھی اتنا نقصان نہیں پہنچا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اقتدار میں آنے سے قبل ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھر کا وعدہ کرنے والے عمران خان نے تین سال میں عوام کو تاریخی بیروزگاری میں دھکیل دیا ہے اور عمران خان کی حکومت آنے سے پہلے جن کے پاس روزگار تھا، آج ان کے پاس روزگار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کل کی سلیکٹڈ حکومت ہو یا ماضی کی دوسری حکومتیں ہوں، جب بھی حکومت میں آئیں تو پاکستان کے عوام کو بے روزگاری بھگتنی پڑی ہے، آج ہم ناصرف تاریخی بیروزگاری بلکہ تاریخی مہنگائی بھی بھگت رہے ہیں، اس قسم کی مہنگائی کسی نے کبھی نہیں دیکھی۔

انہوں نے مہنگائی پر حکومت کو مزید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب ہم جنگ لڑ رہے تھے تو اس وقت بھی ہماری معیشت کا یہ حال نہیں تھا، جب آدھا پاکستان ہم سے کاٹا گیا تھا تب بھی ہماری معاشی حالت ایسی نہیں تھی، اب خان صاحب کی کٹھ پتلی حکومت کے صرف تین سال کے اندر پاکستان کی معاشی شرح نمو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار منفی 0.4 پر پہنچ گئی ہے، آزادی سے لے کر آج تک پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ خان صاحب کے دور میں ہماری معاشی ترقی بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھی کم ہے اور ہماری مہنگائی کی شرح وہ افغانستان اور بنگلہ دیش سے بھی زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آئینی اور قانونی طور پر تمام صوبوں کو ان کا حق اور ان کے وسائل کا مالک بنایا، این ایف سی ایوارڈ کے مطابق انہیں جو حصہ ملنا چاہیے وہ دلوایا تھا لیکن ہمارے بعد نہ ایف سی ایوارڈ پر صوبوں کو ان کا حق دیا، نہ 18ویں ترمیم کے مطابق ان کے حق دلائے اور پھر صوبوں سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے ہاں اتنی پسماندگی، غربت اور ترقی اتنی کم کیوں ہے، وہ اس لیے کہ وہ صوبے کو ان کا حق نہیں دیتے اور پھر ان کو طعنہ دیتے ہیں آپ اتنے غریب کیوں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خود جدوجہد کرنی پو گی اور جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت کا حق چھینا اور پاکستان کے غریب عوام کے غریبوں کا حق چھینا ویسے ہی آج پیپلز پارٹی کے جیالوں کو اپنا جمہوری اور معاشی حق چھیننا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کرنے کے دو طریقے ہیں، ایک وہ جمہوری طریقہ کار جو شہید بے نظیر بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے اپناتی رہی ہے جو ایک کامیاب ماڈل ہے اور دوسرا ماڈل نو ستارے والا ماڈل اور پی این اے والا ہے، وہی ماڈل تھا جو عمران نے اپنایا تھا اور وہی ماڈل ہے جو دوسروں نے ماضی میں اپنائے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اس ماڈل کا خطرہ یہ ہے کہ آپ ناصرف اپنے عوام کو حقوق نہیں دلوا پاتے، جمہوریت لانے میں کامیاب نہیں ہو پاتے بلکہ آپ ایسے بحران پیدا کرتے ہیں کہ جس سے آمریت قائم ہوتی ہے اور جس سے کسی تیسری یا غیرجمہوری قوت کو موقع ملتا ہے جیسے نو ستارے والی تحریک کے بعد ذولفقار علی بھٹو اور پورے ملک کے ساتھ ہوا تھا یا جو عمران کے ڈرامے والے دھرنے اور کٹھ پتلی سیاست کے بعد آپ سب بھگت رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تین سال سے جس طرح سے یہ کٹھ پتلی حکومت چلتی آ رہی ہے، آپ سب گواہ ہیں کہ ہم نے انہیں جلسے پر للکارا تھا، کس طرح سے ہم نے ٹرین مارچ کے ذریعے للکارا اور کیسے اپنے ماضی کے مخالف کی مدد سے ان کو للکارا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک سوچ تھی کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دیا جائے، ایوان اور انتخابی میدان کو چھوڑ دیا جائے اور ضمنی انتخاب بھی نہ لڑا جائے لیکن دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹریننگ اور سوچ ہے جس پر عمل کروایا گیا اور کس کی بدولت حکومت کو پورے ملک کے چاروں صوبوں میں ضمنی الیکشن میں حصہ لے کر شکست دی۔

انہوں نے پاکساتن ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کی جماعتوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ پھر ہم نے سینیٹ الیکشن کا بائیکاٹ کرنا تھا اور اس انتخابی عمل سے باہر رہ کر عمران خان کی نشستیں بڑھتے ہوئے دیکھتے جس کے نتیجے میں ہم سخت احتجاج ریکارڈ کراتے اور مزیدار ہیڈ لائن چلتی اور عمران خان کو مکمل اکثریت دلا دیتے لیکن شکر یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے منایا کہ سینیٹ الیکشن میں ان کا مقابلہ کرتے بھی ہیں اور ان کو شکست دے کر دکھاتے ہیں اور ہم عمران خان کے حلقے میں جا کر مقابلہ کریں گے، آپ تو مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔

بلاول نے کہا کہ یہ کام پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی کو سونپا گیا اور پھر پاکستان پیپلز پارٹی نے پورے ملک اور اپنے اتحادیوں کو بھی دکھایا کہ آپ جمہوری رویہ رکھ کر اس عمران اور ان کے سہولت کاروں کو شکست دے سکتے ہیں جو تین سال سے بس مزے سے بیٹھ کر دیکھ رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عمران خان کے اپنے اراکین اسمبلی کے ساتھ مل کر اسے شکست دی، اس پی ٹی آئی ایم ایف اور ساری طاقتوں کے امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس دن یہ پورا ناجائز کٹھ پتلی نظام بے نقاب ہو گیا، اس وقت اپوزیشن بہت اچھی پوزیشن میں تھی اور اگر اس ماحول میں لانگ مارچ ہوتا کہ ہم عمران خان سے کہتے کہ ہم نے آپ کو شکست دی ہے اور اب ہم نکل کراچی سے نکل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران ہم لاہور سے گزر کر آپ کے وزیر اعلیٰ کو بھی عدم اعتماد میں اڑا کر رہیں گے، پنجاب میں کٹھ پتلی سرکار، سلیکٹڈ وزیر اعلیٰٓ، کٹھ پتلی کی کٹھ پتلی فوج کو گرا کے آگے بڑھتے اور اسلام آباد پہنچتے۔

بلاول نے کہا کہ اسلام آباد پہنچتے ہی وہ خود بھاگ جاتے اور اگر بھاگتے نہیں تو پھر آسان کام ہو جاتا کیونکہ پیچھے پنجاب حکومت گر گئی تھی، ہم پاکستان کے عوام کو بچا سکتے ہیں لیکن میری سمجھ سے باہر ہے کہ جب سب کچھ بالکل تیار تھا تو یہ ایسا موقع نہیں تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اپوزیشن سے ہی اپوزیشن شروع کردیں اور عمران خان کو بھول جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے ہم سینیٹ میں کامیاب ہوئے ہیں تو اس وقت سے ہمارے دوست اپوزیشن سے اپوزیشن کررہے ہیں، ہم آج بھی ان سے ہی اپیل کرتے ہیں کہ ہم عمران خان کو یہ موقع نہ دیں، پاکستان کے عوام یہ برداشت نہیں کریں گے کہ آپ نے عمران خان کی حکومت کیسے رہنے دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں مل کر، برابری اور عزت کے ساتھ کام کریں اور کامیابی بھی حاصل کرتے رہیں، پیپلز پارٹی مل کر اور اکیلے اپوزیشن کرنے کے لیے تیار ہے لیکن ہم عمران خان کی سلیکٹڈ حکومت کو نہیں چھوڑیں گے۔

بلاول نے کہا کہ ہم حکومت سے ہر چیز کا حساب لیں گے، عمران خان کی وجہ سے ہر صوبہ اور ہر پاکستانی مشکل میں ہے اور ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم مل کر ان کا مقابلہ کریں اور اس سلیکٹڈ حکومت اور ناجائز و نالائق نظام کو ختم کریں۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *