Categories
Breaking news

“وزیر اعظم عمران خان نے جھوٹ بولا” عسکری ذرائع نے واضح کردیا

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے انہیں تین آپشنز دیے تھے لیکن اب عسکری ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یہ پیشکش اسٹیبلشمنٹ نے نہیں کی تھی بلکہ وزیر اعظم نے خود اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کرکے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔

اینکر پرسن وسیم بادامی نے اعلیٰ عسکری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جس وقت تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی اور موجودہ سیاسی صورت حال پیدا ہوئی تو اس وقت وزیر اعظم ہاؤس سے عسکری قیادت کو پیغام بھیجا گیا کہ اس ساری صورتحال میں آپ ہماری کیا مدد کرسکتے ہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس سے جب یہ پیغام دیا گیا تو اس کے بعد عسکری قیادت وزیر اعظم ہاؤس گئی، موجودہ حالات میں تین آپشنز زیر بحث آئے، پہلا استعفیٰ، دوسرا تحریک عدم اعتماد کا سامنا اور تیسرا اسمبلیاں توڑ دی جائیں۔

ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعہ) کا دن کیسا رہے گا؟

وسیم بادامی کے مطابق وزیر اعظم کا خیال تھا کہ استعفیٰ دینے میں ان کی سبکی ہوگی جس کا وہ اظہار بھی کرچکے ہیں کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔ دوسرے آپشن پر وزیر اعظم نے کہا کہ ماحول بالکل سامنے اور نمبر گیم بہت واضح ہے ، تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجائے گی ۔ انہوں نے تیسرے آپشن پر اتفاق کیا کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے لے اور عمران خان اسمبلیاں توڑ دیں۔

وسیم بادامی نے ذمہ دار عسکری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ عسکری قیادت یہ تجویز لے کر اپوزیشن کے پاس گئی اور تیسرا آپشن ڈسکس کیا، اپوزیشن نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کیونکہ اپوزیشن کو لگتا ہے کہ ان کی نمبر گیم پوری ہے اور ان کی تحریک عدم اعتماد آسانی کے ساتھ کامیاب ہوجائے گی۔ نجی ٹی وی جیو نیوز کے اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ نے بھی اپنے پروگرام میں عسکری ذرائع کے حوالے سے یہی دعویٰ کیا ہے جو وسیم بادامی نے کیا۔

دھمکی آمیز خط کا معاملہ، امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، نجی ٹی وی کا دعویٰ

خیال رہے کہ عسکری ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آنے سے کچھ دیر پہلے اے آر وائی نیوز کو ہی دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ان کے سامنے تین آپشنز رکھے تھے، انہیں استعفیٰ دینے، تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے یا اسمبلیاں توڑنے کا آپشن دیا گیا۔ انہوں نے پہلی دو تجاویز سے اتفاق نہیں کیا تاہم وہ تیسرے آپشن (اسمبلیاں توڑ کر قبل از وقت انتخابات) کیلئے تیار ہیں۔

مزید :

علاقائیاسلام آبادBreaking Newsاہم خبریںقومی

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published.