Categories
Breaking news

وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورہ افغانستان پر کابل پہنچ گئے

Advertisement
Advertisement

وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورہ افغانستان  پر کابل پہنچ گئے

وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر کابل پہنچ گئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نور خان ایئر بیس سے خصوصی طیارے کے ذریعے کابل روانہ ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم دورہ افغانستان میں افغان امن عمل، دوطرفہ تعلقات پر بات کریں گے۔ وزیراعظم ایک روزہ دورہ افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر کررہے ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگرحکام وزیراعظم عمرا ن خان کے ہمراہ افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان صدر اشرف غنی سے کابل میں ون آن ون ملاقات کریں گے ۔ وزیر اعظم پاکستان اور افغان صدر وفود کی سطح پر بھی ملاقات کریں گے۔

وزیر اعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان کی ہر حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے پاک افغان تجارت سرمایہ کاری فورم 2020 کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خطے کے افغانستان سے روابط صدیوں سے ہیں تاہم افغانستان میں انتشار کے باعث دونوں ممالک کو نقصان پہنچا۔ پاکستان پرامن افغانستان کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کو نقصان پہنچا جبکہ افغانستان میں انتشار نے دونوں ممالک میں غلط فہمیوں کو جنم دیا۔ بیرونی دباوَ سے افغانستان کے عوام پر رائے مسلط نہیں ہوسکتی اب افغانستان کے لوگوں کو اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ احساس کریں ماضی میں کیا کھویا کیا پایا، انسان ماضی سے سیکھتا ہے ماضی میں رہتا نہیں ہے اور عوامی روابط سے باہمی تعلقات کو فروغ ملتا ہے۔ دونوں ممالک میں عوامی اورسیاسی روابط کو فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور میری حکومت کی مخلصانہ کوشش ہے کہ دونوں ممالک میں تجارتی تعلقات پیدا ہوں۔

انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان اور پاکستان میں ترقی کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے اور افغانستان میں امن آنے سے پاکستان اور دیگر ممالک کو بھی فائدہ ہو گا۔ ہمیں ماضی سے نکل کرتجارت، معیشت اور امن کی جانب جانا چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ہم نے بھارت سے دوستی کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے تاہم ہم بھارت سے دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی کوشش پھر بھی کرتے رہیں گے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *