Categories
Breaking news

نیوزی لینڈ میں پاکستانی اسکواڈ کے تمام ٹیسٹ کلیئر ہوگئے

 قومی ٹیم

نیوزی لینڈ میں موجود پاکستان کے تمام 4 کھلاڑیوں کے ٹیسٹ منفی آگئے ہیں جس کے بعد قومی ٹیم کی ٹریننگ کی راہ ہموار ہوگئی ہے اور انہیں اس سلسلے میں جلد اجازت دیے جانے کا امکان ہے۔

اتوار کو قومی ٹیم کے ٹیسٹ کے پانچویں اور آخری مرحلے میں تمام کھلاڑیوں کے ٹیسٹ منفی آ گئے ہیں جس کے بعد انہیں ٹریننگ کی اجازت دیے جانے کا امکان ہے البتہ اس کا حتمی فیصلہ نیوزی لینڈ حکومت کی اجازت سے مشروط ہے۔

مشہور ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق توقع ہے کہ کھلاڑی جلد کرائسٹ چرچ میں آئسولیشن سے نکل آئیں گے اور منگل کو کوئنزلینڈ روانہ ہوں گے جہاں وہ 18دسمبر سے شروع ہونے والی تین ٹی20 میچوں کی سیریز سے قبل ٹریننگ کریں گے۔

ٹی20 میچوں سے قبل پاکستان اے ٹیم نیوزی لینڈ اے کے خلاف دو چار روزہ میچ کھیلے گی جس کے بعد ٹی20 سیریز کے اختتام پر پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھی منعقد ہوگی جو ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا حصہ ہے۔

کوئنز لینڈ میں پاکستان اے اور ٹی20 اسکواڈ الگ الگ ہوٹلوں میں ٹھہرے گا اور ٹریننگ بھی الگ کرے گا۔

نیوزی لینڈ کرکٹ کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی کہ پاکستان کے تمام کھلاڑیوں کے ٹیسٹ منفی آگئے ہیں البتہ ان کا کہنا تھا کہ جن کھلاڑیوں کے ٹیسٹ چھٹے دن مثبت آئے تھے وہ کرائسٹ چرچ روانگی تک آئسولیشن میں ہی رہیں گے جبکہ آکلینڈ میں بھی ایک رکن کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد انہیں قرنطینہ کی سہولت چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر وزارت صحت اجازت دے دیتی ہے تو پاکستانی کھلاڑی کل آئسویشن سے نکل سکیں گے۔

ٹریننگ کی اجازت ملنے کے بعد پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی سکھ کا سانس لیں گے جو جولائی سے اب تک کئی دن آئسولیشن میں گزار چکے ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا میں کمی کے بعد بین الاقوامی کرکٹ بحال ہوئی تو دورہ انگلینڈ میں قومی ٹیم کو پہلی مرتبہ لاک ڈاؤن اور بائیو سیکیور ببل کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد وطم واپسی پر ڈومیسٹک کرکٹ، پی ایس ایل میچز اور زمبابوے سے سیریز کے سلسلے میں پروٹوکولز کی سختی سے پابندی کرنی پڑی۔

پاکستان کو نیوزی لینڈ میں 5 دسمبر سے ٹریننگ کا آغاز کرنا تھا لیکن کیویز کی سرزمین پہنچنے پر 6 کھلاڑیوں کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کھلاڑیوں کو زیادہ وقت آئسولیشن میں گزارنا پڑا۔

ان اراکین کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد آئسولیشن میں قومی ٹیم کو ٹریننگ کے لیے دیا گیا استثنیٰ واپس لے لیا گیا تھا۔

اس دوران کھلاڑیوں کی جانب سے قواعد و ضوابط اور آئسولیشن پروٹوکولز کی خلاف ورزی کی اطلاعات موصول ہوئیں جس کے بعد نیوزی لینڈ کی جانب سے پاکستانی ٹیم کو فائنل وارننگ جاری کرنے اور دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں ٹیم واپس پاکستان بھیجنے کی دھمکی دیے جانے کا انکشاف ہوا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے 6 کھلاڑیوں کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد نیوزی لینڈ میں موجود ٹیم کو خبردار کیا تھا کہ کورونا سے متعلق گائیڈ لائنز پر عمل نہیں کیا گیا تو ٹیم کو واپس بھیج دیا جائے گا۔

پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ ‘یہ قومی عزت اور ملک کے احترام کی بات ہے اور اگر انہوں نے ٹیم کو نیوزی لینڈ سے واپس بھیج دیا تو بے عزتی والی بات ہوگی’۔

تاہم بعدازاں کھلاڑیوں کی جانب سے ذمے دارانہ رویے کا مظاہرہ کرنے پر قومی اسکواڈ کو دوبارہ چہل قدمی کی اجازت مل گئی تھی اور اسپورٹس اسٹاف اور کھلاڑی اپنے اپنے گروپ کے لیے مقررہ مخصوص اوقات میں چہل قدمی کرسکتے تھے۔

چہل قدمی کی یہ اجازت اسکواڈ کے ان اراکین کو ملی جن کے مسلسل دو ٹیسٹ منفی آئے۔

ابھی قومی اسکواڈ ابتدائی دھچکے سے سنبھلا بھی نہ تھا کہ ہفتے کو ایک اور رکن کا کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا البتہ اس مرتبہ کسی کی جانب سے پروٹوکول کی خلاف ورزی رپورٹ نہیں کی گئی۔

قومی ٹیم کے ایک اور رکن کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد قومی ٹیم کو آئسولیشن میں رہنے کی ہدایت کردی گئی تھی۔

گزشتہ دنوں ٹیم کو ٹریننگ کی اجازت نہ دینے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے مایوسی کا اظہار کیا تھا اور کھلاڑیوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی تھی۔

بابر اعظم کی قیادت میں نیوزی لینڈ پہنچنے والے پاکستان کے 53 رکنی دستے کے لیے 24 نومبر کو نیوزی لینڈ پہنچنے کے بعد دو ہفتے لازمی قرنطینہ میں رہنا تھا۔

پاکستانی ٹیم تین ٹی20 اور دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کے لیے 23 نومبر کو نیوزی لینڈ روانہ ہوئی تھی۔

قومی ٹیم 18، 20 اور 22 دسمبر کو بالترتیب آکلینڈ، ہملٹن اور نیپیئر میں ٹی 20 میچز کھیلے گی جس کے بعد وہ میزبان ٹیم سے 2 ٹیسٹ میچز بھی کھیلے گی۔

سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ باکسنگ ڈے پر 26 دسمبر کو شروع ہو گا جبکہ کرائسٹ چرچ میں دوسرا ٹیسٹ میچ 3 جنوری سے کھیلا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *