Categories
Breaking news

نوجوانی اور درمیانی عمر میں موٹاپا قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھائے

Advertisement
Advertisement

نوجوانی اور درمیانی عمر میں موٹاپا قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھائےنوجوانی اور درمیانی عمر میں زیادہ جسمانی وزن کسی فرد کی جلد موت کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن افراد کا جسمانی وزن نوجوانی میں زیادہ اور درمیانی عمر میں موٹاپے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے، ان میں جلد موت کا خطرہ کم وزن کے حامل افراد کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔

طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع تحقیق میں تخمینہ لگایا گیا کہ امریکا میں 12 فیصد سے زیادہ قبل از اموات اور موٹاپے کے درمیان تعلق موجود ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے موٹاپے کی روک تھام پر توجہ دی جانی چاہیے خصوصاً کم عمری میں۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق کے نتائج سے پوری زندگی میں صحت مند وزن کو برقرار رکھنے کے فوائد کے اہم شواہد ملتے ہیں۔

تحقیق کے دوران امریکا میں ایک غذائی سروے کے دوران 1998 سے 2015 تک شامل ہونے والے 24 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا۔

ان افراد کی عمریں 40 سے 74 سال کے درمیان تھیں اور ڈیٹا میں ان رضاکاروں کے 25 سال کی عمر ، 10 سال قبل اور 10 سال بعد کے جسمانی وزن کو شامل کیا گیا تھا۔

محققین نے جسمانی وزن میں تبدیلیوں اور مشاہداتی عرصے کے دوران کسی رضا کی موت کے ممکنہ امکانات کا تجزیہ کیا۔

انہوں نے دریافت کیا کہ جن افراد کا جسمانی وزن 25 سال کی عمر سے لے کر درمیانی عمر تک بہت زیادہ ہوتا ہے، ان میں جلد موت کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

محققین نے تخمینہ لگایا کہ اگر 25 سال کی عمر میں موٹاپے کے شکار افراد اپنے وزن کو درمیانی عمر تک کسی حد تک کم کرلیتے ہیں، تو موت کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ تحقیق میں قبل از وقت اموات پر توجہ دی گئی تھی، مگر صحت مند وزن کو برقرار رکھنا متعدد دائمی امراض جیسے بلڈ پریشر، ذیابیطس، امراض قلب اور کینسر کا خطرہ کم کرتا ہے۔

اس سے قبل رواں سال فروری میں کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ موٹاپے کو قبل از وقت بڑھاپا تصور کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے ایسے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے جو عام طور پر زیادہ عمر کے افراد میں عام ہوتے ہیں۔

کنکورڈیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق موٹاپے کے نتیجے میں لوگوں کو ایسے جان لیوا امراض جیسے جینومز میں تبدیلی، کمزور مدافعتی نظام، دماغی افعال میں کمی، ذیابیطس ٹائپ ٹو، الزائمر، دل کی شریانوں سے جڑے امراض، کینسر اور دیگر امراض کا سامنا ہوتا ہے جو عام طور پر بزرگ افراد میں زیادہ نظر آتے ہیں۔

جریدے جرنل اوبیسٹی ریویوز میں شائع تحقیق کے دوران موٹاپے کے اثرات پر شائع ہونے والے 200 سے زائد مقالوں کا تجزیہ کیا گیا، جس میں خلیات کی سطح سے لے کر پورا جسم شامل تھا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ منظم طریقے سے اس دلیل کو ثابت کیا جاسکے کہ موٹاپا بڑھاپے سے کم نہیں، درحقیقت موٹاپے اور بڑھاپے دونوں کا عمل مماثلت رکھتا ہے۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ موٹاپا کس طرح مختلف پہلوﺅں سے جسمانی عمر میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

ماضی میں متعدد تحقیقی رپورٹس میں موٹاپے کو قبل از وقت موت کا باعث قرار دیا جاچکا ہے مگر اس تحقیق میں شامل سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ موٹاپے سے بڑھاپے کی جانب لے جانے والا میکنزم تیز ہوجاتا ہے۔

محققین نے خلیات کی موت کے عمل اور صحت مند خلیات کی مرمت کے عمل کو دیکھا، کیونکہ اسے عموماً بڑھاپے سے جوڑا جاتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس سے یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ یہ عمل جسمانی نظام کو متاثر کرکے کینسر، خون کی شریانوں سے جڑے امراض، ذیابیطس ٹائپ ٹو اور الزائمر کا خطرہ بڑھتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ جینیاتی سطح پر موٹاپا متعدد ایسی تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے جن کو بڑھاپے سے جوڑا جاتا ہے، جن میں کروموسومز میں موجود ٹیلومیئرز کی لمبائی میں کمی بھی شامل ہے اور موٹاپے کے شکار مریضوں میں ٹیلومیئرز کی لمبائی 25 فیصد سے زیادہ کم ہوتی ہے۔

محققین کا یہ بھی کہنا تھا کہ موٹاپے کے اثرات دماغی تنزلی، فشار خون، تناﺅ اور حرکت پذیری پر بھی بالکل ایسے مرتب ہوتے ہیں جو بڑھاپے میں نظر آتے ہیں۔

خلیاتی سطح پر موٹاپا عمر سے جڑے امراض کے حوالے سے ردعمل کو کمزور کردیتا ہے اور بعد میں جسمانی وزن میں کمی سے بھی اس عمل کو ریورس نہیں کیا جاسکتا۔

جہاں تک مدافعتی نظام پر موٹاپے کے اثرات کی بات ہے تو اس کے نتیجے میں انفلوائنزا جیسے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ موٹاپے سے ذیابیطس ٹائپ ٹو، الزائمر اور مختلف اقسام کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *