Categories
Breaking news

نشے میں دُھت سیاحوں کی تصویریں وائرل، میڈرڈ میں ایک نئی سیاسی بحث چھڑ گئی

Advertisement
Advertisement

میڈرڈ (محمد نبی) میڈرڈ میں بیرون ملکی سیاح پہلے سے تنقید کا ہدف بنے ہوئے ہیں۔ اب کی بار شراب پی کر لی گئی تصویروں نے ایک بار پھر سیاسی بحث کو جنم دے دیا۔ میڈرڈ کی گلیوں میں لی گئی نوجوانوں کی کچھ تصویروں کو بنیاد بنا کر بائیں بازو والوں کی تنقید ہے کہ میڈرڈ کا صدر شہر کو ‘مئے خانہ’ بنانے جا رہا ہے۔ جب کہ مئیر، لوئس مارتینیز نے جوابا کہا ہے کہ فرانس سے سیاح میڈرڈ کا رخ اس لئے نہیں کر رہے کہ یہاں کھلے عام شراب نوشی ہوتی ہے بلکہ میڈرڈ اپنے اندر ایک ناقابل انکار جاذبیت رکھتا ہے اور سیاح اس طرف کھچے چلے آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ یورپ کا واحد شہر ہے جو ہرایک کلچر کے لئے کھلا ہے۔
گزشتہ کچھ دنوں سے سیاح غول کی شکل میں میڈرڈ کا رخ کر رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر نوجوانوں کی ہے جو فرانس کی سخت کورونا پابندیوں سے بچنے کےلئے اسپین اور خاص کر میڈرڈ کی طرف آ رہے ہیں۔
تاہم مقامی باشندوں کی طرف سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ بیرون ملک سے آںے والے یہ ساح کورونا پابندیوں کی پرواہ نہیں کرتے، ماسک کا استعمال نہیں ہوتا اور سماجی فاصلوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *