Categories
Breaking news

موٹروے واقعے پر ہر آنکھ اشک بار ہوئی، شہبازشریف

Advertisement
Advertisement

موٹروے واقعے پر ہر آنکھ اشک بار ہوئی، شہبازشریف

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا ہے کہ بدنام زمانہ پولیس افسر سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) کو لگایا گیا اور تصویریں بنوائی گئیں.

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ موٹروے واقعے پر ہر آنکھ اشک بار ہوئی۔ واقعے پر سب کے سر شرم سے جھک گئے۔ شکر کی بات ہے کہ آج موٹروے واقعے کا مجرم گرفتار ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس بحث پر الجھی ہوئی تھی کہ موٹروے پر کس کا کنٹرول ہے۔ موٹروے واقعے پر سی سی پی او کا بیان شرمناک ہے۔ پولیس افسر کے بیان سے پوری قوم کے دل زخمی ہوگئے۔ پولیس افسر نے بیان دیا کہ پیٹرول نہیں تھا تو رات کے اندھیرے میں کیوں نکلی۔ کوئی ذی شعور شخص اس طرح سوچ بھی نہیں سکتا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اداروں کی رپورٹ کہہ رہی تھی یہ پولیس افسر کرپٹ ہے۔ ڈھٹائی کےساتھ اس پولیس افسر کو سی سی پی او تعینات کیا گیا۔

شہبازشریف نے کہا کہ سی سی پی او لاہور کو جس نے لگایا وہ سینہ تان کرکھڑے تھے کہ ہم نے لگایا۔ موٹروے واقعے پر اپوزیشن لیڈر شپ نے ذمہ داری کا کردار ادا کیا۔
موٹروے واقعے پر سیاسی پارٹیوں نے کوئی سیاست نہیں کی۔

شہباز شریف نے کہا کہ زینب واقعے کو پی ٹی آئی نے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔ زینب کیس میں ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا نہیں کیا گیا تھا۔ ہماری حکومت نے 1300 ا فرادکےڈی این اےٹیسٹ کیے تھے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ڈولفن پولیس فورس اور فرانزک لیب نوازشریف کے دور میں بنا۔ فرانزک لیب دنیا کی سب سے بڑی دوسری لیب ہے۔ نوازشریف کے دور میں پولیس ریفارمز کی گئیں۔ پنجاب میں پولیس افسروں کی تعیناتیاں 95 فیصد میرٹ پر ہوتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ کمیٹی تشکیل دی جائے کہ موٹروے پر تعیناتی میں تاخیر کی کیا وجہ تھی۔ اگر کسی نے بدکلامی کی گئی تو پھر مجھ سے گلا مت کیجیئے گا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ موٹر وے کے افسوسناک واقعہ پر پوراملک غمگین ہے۔ افسوس ایوان میں مجرموں کو سزا دینے پر بحث نہیں ہورہی ہے۔ اپوزیشن میں 2 قسم کی بحث ہورہی ہے۔

وفاقی وزیرمراد سعید نے کہا کہ ایوان میں اس بات پر بحث نہیں ہورہی ہے کہ درندوں کو کیسے عبرت کا نشان بنایاجائے۔ درندوں کو سزا دلوانے پر کوئی بحث نہیں ہورہی ہے۔ موٹروے واقعے پر جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ ہم نے دو قسم کی بحث شروع کررکھی ہے۔ بحث ہورہی ہے کہ سانحہ موٹر وے پر مراد سعید مستعفی ہوجائے۔ دوسری بحث یہ ہورہی ہے کہ پنجاب فرانزک لیب کس نے بنائی۔ میں اس لیے ذمہ دار ہوں کیوں کہ میں اس ایوان کا حصہ ہوں۔ یہ واقعہ موٹر وے پر نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ 130 پر کی گئی کال میں نے خود سنی۔ 130 پر کال کی گئی تو اس میں نہیں کہا گیا کہ یہ ہماری حدود نہیں۔ جن کی ذمہ داری تھی ان کے ساتھ رابطہ کرایا گیا تھا۔ یہ واقعہ جہاں پر بھی ہوا میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ خدا کے لیے یہ بحث نہ کریں کہ لیب کس نے بنائی اور مراد سعید کہا ں ہے۔ موٹروے واقعے کا میں ذمہ دار ہوں، ریاست ذمہ دار ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *