Categories
Breaking news

مودی حکومت کے ہتھکنڈوں نے کشمیریوں کو ہتھیار اٹھانے پہ مجبور کیا: محبوبہ مفتی

Advertisement
Advertisement

محبوبہ مفتی

مقبوضہ جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارت میں برسر اقتدار مودی سرکار پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارا جھنڈا ہمیں واپس دو۔ انہوں نے کہا ہے کہ بیشک! آج بی جے پی کا دن ہے لیکن کل ہمارا ہو گا اور اس کا حال بھی ٹرمپ والا ہی ہو گا۔

ہم نیوز نے عالمی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ناجائز ہتھکنڈوں کی وجہ سے کشمیری نوجوان ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب نوکریاں نہیں ہوں گی تو لڑکے بندوق ہی اٹھائیں گے۔

محبوبہ مفتی نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کو چاہیے کہ وہ واجپائی حکومت کی خارجہ پالیسی سے سیکھے اور پاکستان سے تعلقات معمول پر لائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان زیادہ سے زیادہ سرحدی راستے بننے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کو ہٹانے کے بعد بی جے پی کی منشا ہے کہ جموں و کشمیر کی زمین اور نوکریاں چھین لے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 370 ڈوگرا کلچر کو بچانے کے لیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جھنڈا ہمیں آئین نے دیا تھا لیکن بی جے پی نے وہ بھی ہم سے چھین لیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر دونوں ممالک کے درمیان امن کا پل بنے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارا جھنڈا ہمیں واپس دو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن متحد ہو کر لڑ رہے ہیں کیونکہ جموں و کشمیر کے ٹکڑے کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹکڑے کرنے والی طاقتوں کو دور کرنے کے لیے ہی ہم نے ہاتھ ملایا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک اور سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی صدر پی ڈی پی نے کہا کہ آرٹیکل 370، ہندو مسلم مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی شناخت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔

انہوں نے طنزاً استفسار کیا کہ کشمیری پنڈتوں کا کیا بنا؟ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی نے تو ان سے بھی وعدہ کیا تھا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے واضح طور پر کہا کہ جب ہم چین سے بات کرسکتے ہیں تو پاکستان سے بات کیوں نہیں کرسکتے ہیں؟

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *