Categories
Breaking news

موجودہ ویکسینز اومیکرون کے خلاف ممکنہ طور پر کم مؤثر ہوسکتی ہیں: موڈرنا سی ای او

موڈرنا ویکسین

موڈرنا کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین کو اس بیماری کے خلاف سب سے زیادہ مؤثر ترین ویکسینز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

مگر امریکی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ ویکسینز کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے خلاف ڈیلٹا کے مقابلے میں کم مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔

موڈرنا کے سی ای او اسٹیفن بینسل نے کہ کہ اگرچہ کورونا کی نئی قسم کے خلاف موجودہ ویکسینز کی افادیت کا ڈیٹا 2 ہفتوں تک سامنے آسکتا ہے، مگر اومیکرون کے مقابلے کے لیے موجودہ ویکسینز کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

فنانشنل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا 'میرے خیال میں ویکسینز کی افادیت اس سطح کی نہیں ہوگی جیسی ڈیلٹا کے خلاف نظر آئی'۔

انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ دوا ساز کمپنیوں کو اومیکرون اور پرانی اقسام کو ہدف بنانے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے اور خبردار کیا کہ صرف اومیکرون کے خلاف ویکسین کے لیے موڈرنا کی تمام پروڈکشن گنجائش کو لگانا خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران معمر یا کمزور مدافعتی نظام کو زیادہ طاقتور بوسٹر ڈوز بھی دیئے جاسکتے ہیں۔

فائزر اور اس کی جرمن شراکت دار کمپنی بائیو این ٹیک نے 26 نومبر کو کہا تھا کہ وہ 100 کے اندر اومیکرون کے خلاف اپنی ویکسین کا اپ ڈیٹ ورژن تیار کرسکتی ہے، مگر ایسا اسی صورت میں ہوگا اگر کورونا کی یہ نئی قسم موجودہ ویکسین سے پیدا ہونے والی مدافعت کے خلاف مزاحمت کرنے والی ثابت ہوئی۔

موڈرنا کے سی ای او نے کہا کہ اومیکرون کے اسپائیک پروٹین میں بہت زیادہ میوٹیشنز ہوئی ہیں، یہ وہ حصہ ہے جو جس کو وائرس انسانی خلیات کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی افریقہ میں اس نئی قسم کے تیزی سے پھیلنے سے عندیہ ملتا ہے کہ اومیکرون کے خلاف موجودہ ویکسینز بہت زیادہ مؤثر نہیں، درحقیقت انہوں نے ویکسینز کی افادیت میں کمی کی پیشگوئی کی۔

موڈرنا کے سی ای او کے اس بیان کے بعد دنیا بھر میں حصص کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھنے میں آئی۔

امریکا کی ملٹی نیشنل انویسٹمنٹ کمپنی جیفریز کے منیجنگ ڈائریکٹر موہت کمار نے کہا کہ اسٹیفن بینسل کا بیان باعث تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر اس بیان سے موجودہ صورتحال کی حقیقی عکاسی ہوتی ہے اور اومیکرون کے اثرات سے متعلق غیریقینی فضا ظاہر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے ہفتوں میں معاملات کافی ھد تک واضح ہوجائیں گے مگر اسٹاک مارکیٹوں کو اس وقت تک مندی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ کووڈ ویکسینز تیار کرنے والی دیگر کمپنیوں کی جانب سے بھی اومیکرون کے خلاف ردعمل پر غور کیا جارہا ہے۔

فائزر اور بائیو این ٹیک نے اعلان کیا ہے کہ انہیں 2 ہفتے کے اندر معلوم ہوجائے گا کہ اس نئی قسم کے خلاف ویکسین کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

کمپنی نے بتایا کہ فائزر اور بائیو این ٹیک 6 ہفتوں کے اندر ایم آر این اے ویکسین کو اپ ڈیٹ اور 100 دنوں میں ابتدائی خوراکیں مارکیٹ میں فراہم کرسکتی ہیں۔

تاہم ایسا اسی وقت ہوگا جب یہ ثابت ہوجائے کہ اومیکرون موجودہ ویکسین کے اثرات سے بچنے والی قسم ہے۔

چینی کمپنی سائنو ویک نے بھی کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ بڑے پیمانے پر ویکسین کا نیا ورژن تیار کرنے کے لیے پراعتماد ہے، مگر ایسا اسی وقت ہوگا جب ریگولیٹری منظوری حاصل ہوجائے گی اور ایسے شواہد سامنے آئیں گے جن سے ثابت ہو کہ ویکسین کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ ٹیکنالوجی اور پروڈکشن اوریجنل وائرس والی ہی ہوگی جبکہ اس نئی قسم کو آئسولیٹ کرنے پر فوری بنیادوں پر ویکسین کو تیار کیا جاسکتا ہے، جس کی پروڈکشن کوئی مسئلہ نہیں۔

ایسٹرا زینیکا نے بھی بتایا ہے کہ اس کی جانب سے بوٹسوانا اور eSwatini میں تحقیق شروع کردی گئی ہے، تاکہ ویکسین پر اس نئی قسم کے اثرات کی جانچ پڑتال کی جاسکے۔

جانسن اینڈ جانسن کی جانب سے اس کی تیار کردہ کووڈ ویکسین کی افادیت کو اومیکرون کے خلاف جانچا جارہا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس نئی قسم کے لیے مخصوص ویکسین بھی تیار کی جاسکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.