Categories
Breaking news

ملک میں کورونا کی نئی لہر کے آغاز کے واضح شواہد نظر آرہے ہیں: اسد عمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمرنیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی نئی لہر کے آغاز کے واضح شواہد نظر آرہے ہیں۔

اپنی ایک ٹوئٹ میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ مثبت نمونوں کی جینوم سیکوئنسنگ سے کورونا کی اومیکرون قسم میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور ایسا خاص طور پر سے کراچی میں ہورہا ہے۔

اسد عمر نے عوام کو یاددہانی کروائی کہ وہ وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک کا استعمال کریں۔

Clear evidence now of a beginning of another covid wave which has been expected for last few weeks. Genome sequencing showing rising proportion of omicron cases particularly in karachi. Remember : wearing a mask is your best protection

— Asad Umar (@Asad_Umar) January 2, 2022

واضح رہے کہ گزشتہ 3 روز سے ملک میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح ایک فیصد سے زائد رہی ہے۔ این سی او سی کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے کل 45 ہزار 585 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 594 ٹیسٹ مثبت آئے یوں مثبت کیسز کی شرح 1.30 فیصد رہی۔

گزشتہ روز سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا کے کل 51 ہزار 141 ٹیسٹ کیے گئے تھے جن میں سے 556 ٹیسٹ مثبت آئے اور مثبت کیسز کا تناسب 1.08 فیصد رہا، جمعے کے روز جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق بھی ملک میں 516 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

ملک بھر سے کورونا وائرس کی اومیکرون قسم کے مقامی منتقلی کے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک میں کورونا کیسز کی شرح مسلسل 3 روز سے ایک فیصد سے زائد ہے۔

اس سے قبل ملک میں تقریباً 2 ماہ تک کورونا کیسز کی شرح ایک فیصد سے کم رہی تھی اور یہ خیال کیا جارہا تھا کہ شاید ملک کو دربارہ وائرس سے متعلق بندشوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پاکستان میں مارچ 2020 میں کورونا وائرس سے متعلق اعداد و شمار جاری ہونا شروع ہوئے تھے اور اس وقت سے مثبت کیسز کی شرح ایک فیصد سے زیادہ ہی تھی، تاہم 8 نومبر 2020 کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر (این سی او سی) نے اعلان کیا تھا ملک میں کورونا کے مثبت آنے کی شرح پہلی مرتبہ ایک فیصد سے کم ہوگئی ہے۔

اس کے بعد سے ملک میں مثبت کیسز کی شرح ایک فیصد سے کم ہی رہی جبکہ 25 دسمبر کو یہ شرح 0.69 فیصد ہی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال نومبر کے اواخر میں اسد عمر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ دنیا بھر میں تباہی مچانے والا اومیکرون وائرس پاکستان بھی آئے گا، ان کا کہنا تھا کہ تمام تر اقدامات کر کے وائرس کی آمد کو کچھ وقت کے لیے ٹالا جاسکتا ہے لیکن اسے ساری دنیا میں پھیلنا ہی ہے کیوں کہ دنیا ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح ملی ہوئی ہے کہ اسے روکنا ممکن نہیں ہے۔

کورونا وائرس کے سامنے آنے کے بعد سے اب تک ملک میں 12 لاکھ 96 ہزار 527 افراد اس کا شکار ہوچکے ہیں جن میں سے 12 لاکھ 57 ہزار 24 افراد اس سے صحت یاب ہوئے جبکہ 28 ہزار 941 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.