Categories
Breaking news

ملک بھر میں محرم الحرام کا آغاز، سیدہ کونین کے لال کے غم میں فرش عزا بچھ گئی

Advertisement
Advertisement

سیدہ کونین کے لال کے غم میں فرش عزا بچھ گئیمحرم الحرام کا چاند نظرآتے ہی ملک بھر میں سیدہ کونین کے لال کے غم میں فرش عزا بچھ گئی ہے اور مجالس و نوحہ و ماتم کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

لب پہ ذکر اہلبیت، آنکھوں میں غم حسین ع کے اشک، سینوں میں سانحہ کربلا کا سوز اور فضا میں لبیک یا حسین کی گونج ۔محرم کا چاند نظر آیا تو گویا رت ہی بدل گئی امام بارگاہیں آباد اور شہر کی چکا چوند ماند پڑگئی۔

ماہ محرم الحرام کا چاند فلک پر نمودار ہوتے ہی زمین پرفرش عزا کا اہتمام ہوجاتا ہے سید الشہدا امام عالی مقام اور ان کے جانثار ساتھیوں کی یاد میں عزادار اپنے گھروں میں بھی عزاداری کا اہتمام کرتے ہیں۔

حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب با وفا کے غم میں مساجد، امامبارگاہوں اور گھروں میں فرش عزائے سید الشہدا بچھ گئے ہیں اور ہر طرف یاحسین کی صدائیں بلند ہیں۔اسلامی سال کا آغاز امت مسلمہ کو جہاں حق ، صداقت کے لیے دی جانے والی عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے وہیں اسوہ شبیری پر دل و جان سے فدا ہونے کا تقاضا بھی کرتا ہے۔

محرم وہ مہینہ ہے جب حضرت امام حسین(ع) نے میدان کربلا میں حق و باطل، علم و جہل، رضائے الٰہی اور خواہشات نفسانی کے درمیان حد فاصل قائم کرنے والی وہ عظیم و بے مثال قربانی پیش کی کہ محرم الحرام کی نسبت ہی امام عالی مقام سے ہوگئی۔

حضرت امام حسین (ع) کی ذات اقدس اور مقصد شہادت اتنا بلند ہے کہ ضروری نہیں ہر ذہن ان فضائل، مراتب اور راہ خدا میں اس بے مثال قربانی کا احاطہ کرسکے، جو خاندان نبوت نے میدان کربلا میں پیش کی۔

مسلمانوں کے تمام مکاتب فکرواقعہ کربلا کی یاد اپنے اپنے انداز میں مناتے ہیں ،کہیں مجالس ہوتی ہیں تو کہیں درود و سلام کی محافل کا انعقاد ہوتا ہے تو کہیں علم اٹھا کر حق و صداقت کی گواہی دی جاتی ہے۔

کہیں قرآن کو اسوہ بنانے کے عزم کیے جاتے ہیں تو کہیں امام حسین علیہ سلام پر ڈھائے جانے والے مظالم کو یاد کر کے آنسو بہائے جاتے ہیں۔

کہیں نواسہ رسول کی عظمت کے قصیدے بیان کیے جاتے ہیں توکہیں نیازیں بٹتی ہیں ،سبیلیں لگائی جاتی ہیں غرض کہ عالم اسلام کا ایک ایک فرد واقعہ شہدائے کربلا کی عقیدت کا اسیر نظر آتا ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *