Categories
Breaking news

مشکل حالات میں ایپل کے سربراہ نے ٹیسلا کے مالک سے ملنے سے انکار کیوں کیا؟

Advertisement

ایلون مسک

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے انکشاف کیا ہے کہ جب ان کی کمپنی مشکل وقت سے گزر رہی تھی تو معروف امریکی کمپنی ایپل کے مالک ٹم کک نے ان سے ملنے سے انکار کردیا تھا۔

ایلون مسک کا کہنا ہے کہ 2017 میں جب ان کی کمپنی بد ترین مالی بحران سے گزر رہی تھی تو انہوں نے ایپل کے سربارہ سے ممکنہ طور پر ٹیسلا کمپنی کو خریدنے کے لیے رابطہ کیا تھا تاہم ٹم کک نے ان سے ملنے سے انکار کردیا تھا۔

ایلون مسک کے مطابق جب انہوں نے ایپل کے سربارہ سے رابظہ کیا تو اس وقت ٹیسلا کمپنی اپنی ماڈل 3 الیکٹرک کار بنانے کے حوالے سے شدید مالی مشکلات کا سامنا کررہی تھی اور وہ چاہ رہے تھے کہ ایپل ان کی کمپنی کے کچھ شیئرز خریدے، تاہم ایپل کے سربرہ نے ان سے ملاقات سے صاف انکار کردیا تھا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ایلون مسک نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جو اگلے پانچ سال میں انسانی زبانوں کو ختم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

ایلون مسک نے یہ پیش گوئی پوڈ کاسٹ ‘دی جو روگن ایکس پیئرنس’ میں نیورو ٹیکنالوجی کی اپنی فرم ‘نیورا لنک’ کے بارے میں گفتگو کے دوران کی تھی۔

مسک نے امید ظاہر کی تھی کہ ان کی کمپنی نیورا لنک چپ کو اگلے سال کے دوران انسانی دماغ سے جوڑنے کی صلاحیت حاصل کر لے گی۔

Advertisement

مسک کے مطابق بیڑی پر چلنے والی یہ چپ انسانی کھوپڑی میں لگائی جائے گی اور اس کے الیکڑوڈز انسانی دماغ میں داخل کیے جائیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ چپ دماغ میں کہیں بھی کام کر سکتی ہے اور نظر کی کمزوری پر بھی قابو پا سکتی ہے جبکہ دماغ کے ساتھ پیش آنے والے کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو بولنے کی ضرورت نہیں رہے گی البتہ جذبات کی ترجمانی کے لیے شاید ان کا استعمال جاری رہے۔

Strange, if true.
– Tesla already uses iron-phosphate for medium range cars made in our Shanghai factory.
– A monocell is electrochemically impossible, as max voltage is ~100X too low. Maybe they meant cells bonded together, like our structural battery pack?

— Elon Musk (@elonmusk) December 22, 2020

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *