Categories
Breaking news

مسلح گروہ اور رضا کار میں فرق ہوتا ہے: فضل الرحمٰن کا وزارت داخلہ کے مراسلے پر ردعمل

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وزرات داخلہ کی جانب سے سیاسی و مذہبی جماعتوں کی ’ملیشیاز‘ سے متعلق جاری مراسلے پر کہا ہے کہ مسلح گروہ اور رضاکار میں فرق ہوتا ہے۔

جے یو آئی (ف) کی جانب سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے وزارت داخلہ کی جانب سے لیے گئے نوٹس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ یہ سیاسی دباؤ کے طور پر ایک رجسٹرڈ جماعت کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے۔

اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ایسے مراسلے سیاسی دباؤ کے لیے ہوتے ہیں اور اس کے الفاظ نئے نہیں ہیں جبکہ اس وقت جان بوجھ کر ایک نان ایشو کو ایشو بنایا جارہا ہے۔

سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ مسلح گروہ اور رضاکار میں فرق ہوتا ہے، رضاکار انصارالاسلام کے ہیں جو جے یو آئی کا ایک دستوری ونگ ہے۔

خیال رہے کہ انصارالاسلام جے یو آئی کی ایک ذیلی تنظیم ہے جو عموماً ان کے جلسوں و جلوسوں میں سیکیورٹی کے فرائض انجام دیتی ہے۔

فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ رضاکار الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ ہیں، اس پر کبھی اعتراض نہیں کیا، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ یہ رضاکار جے یو آئی (ف) کے دستور کا حصہ ہیں۔

اعلامیے کے مطابق سربراہ جمعیت علمائے اسلام کا کہنا تھا کہ ہم نے 2001 میں لاکھوں افراد کے جلسے کیے، اس وقت کے وزیر داخلہ نے ہمارے رضا کاروں کی منصوبہ بندی کو سراہا، مزید یہ کہ 2017 میں بھی ہم نے جلسے کیے اور اںصارالاسلام کے رضاکاروں نے سیکیورٹی دی۔

انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ میں بھی انہیں رضاکاروں نے سیکیورٹی دی، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت نے ہمیشہ پرامن رہنے کا ثبوت دیا ہے اور اس کی تازہ مثال آزادی مارچ ہے جس میں ایک گملا تک نہیں ٹوٹا۔

بیان میں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ڈنڈے کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا کوئی لائسنس ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی وزارت داخلہ نے صوبائی حکومتوں کو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی تشکیل دی گئی 'ملیشیاز' کے افعال کا جائزہ لینے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی تھی۔

اس سلسلے میں سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کی جانب سے چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز کو مراسلہ ارسال کیا گیا تھا۔

مراسلے میں کہا گیا تھا کہ 'مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اپنی ملیشیاز قائم کر رکھی ہیں جو نہ صرف وردی پہنتی ہیں بلکہ مسلح افواج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرح ان میں درجہ بندی بھی ہے'۔

مراسلے میں مزید کہا گیا تھا کہ یہ ملیشیاز اپنے آپ کو ایک عسکری تنظیم کی طرح سمجھتی ہیں جو آئین کی دفعہ 256 اور نیشنل ایکشن پلان کے نکات (نمبر 3) کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

مراسلے میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ اس قسم کی چیزوں کو اگر دیکھا نہ جائے تو یہ سیکیورٹی کی پیچیدہ صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں، اس کے علاوہ اس مسئلے کا ملک کے قومی اور بین الاقوامی تشخص پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔

یہاں یہ مدنظر رہے کہ نومبر 2019 میں وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم 'انصار الاسلام' پر پابندی عائد کردی تھی۔

وفاقی کابینہ نے انصار الاسلام پر پابندی کی منظوری دی اور کابینہ ارکان سے تنظیم پر پابندی کی منظوری بذریعہ سرکولیشن لی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *