Categories
Breaking news

مرنے کے بعد بھی کرپشن ثابت ہوجائے تو قبر سے نکال کر لٹکا دیا جائے: شہباز شریف

Advertisement

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام سلیکٹڈ حکومت اور وزیراعظم سے مایوس ہوچکے ہیں۔

لاہور میں لیگی رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج 2 سال سے زیادہ ہوگئے ہیں اور اس سلیکٹڈ حکومت اور وزیراعظم سے پاکستان کے 22 کروڑ عوام نہ صرف مایوس ہوگئے بلکہ بیزاری کی انتہا پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آر ٹی ایس جس انتخابات میں ناکام ہوگیا بلکہ اس کے نتیجے میں بننے والی اس حکومت نے ان سوا 2 برسوں میں قوم کا کیا سوارا اور بہتری کی وہ آج دیوار پر لکھی ہے، کیا کیا سہانے خواب دکھائے گئے تھے کہ 300ارب ڈالر کپتان لائے گا، ایک سو ارب ڈالر آئی ایم ایف کے منہ پر مارے گا اور قوم کی ترقی و خوشحالی، دودھ کی نہریں بہیں گی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے غریب عوام کی آواز بن کر بات کرنی ہے، نواز شریف کے دور میں چینی جو 50 روپے کی تھی آج 100 روپے کلو پر ہے، نواز شریف کے دور میں جو آٹا آسانی سے اور کم قیمتوں پر ملتا تھا وہ آج نایاب ہے بلکہ گندم غائب ہوگئی ہے، عام آدمی کی جیب خالی ہوگئی ہے لیکن وہ ڈیزل اور تیل کا انتظام نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود سلیکٹڈ وزیراعظم ان اسکینڈلز کو دن رات صرف چھپانے میں مصروف ہے بلکہ منی لانڈرنگ جو پی ٹی آئی کے 23 اکاونٹس ہیں وہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے اور اگر الیکشن کمیشن اور اسٹیٹ بینک وہ حقائق لے آئے جو ان کے پاس موجود ہیں تو عمران خان نیازی ایک سیکنڈ بھی وزیراعظم نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کو کئی برس گزر گئے ہیں لیکن الیکشن کمیشن نے فارن اکاونٹ کیس کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا۔

دوران گفتگو ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن پر ناجائز اور غلط الزام لگاکر جو انتقام کی ہوس بجھانے کے لیے کوشش کی جارہی ہے وہ نہیں بھج رہی جبکہ نیازی-نیب گٹھ جوڑ نے کیسز کرنے کا ریکارڈ توڑ دیا ہے، رانا ثنا اللہ و شاہد خاقان کے خلاف جو کیس بنایا گیا وہ پوری قوم جانتی ہے جبکہ کس ڈھٹائی سے عمران خان اور ان کے حواری کہتے رہے کہ یہ سچا کیس ہے، اس کے برعکس علیمہ خان کی بیرون ملک جائیدادوں پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا علیمہ خان کو ایف بی آر میں پروٹوکول کے ساتھ بلایا جاتا ہے جبکہ انہوں نے ایمنسٹی سے فائدہ اٹھا کر جائیدادیں ظاہر کیں اور معافی کا فائدہ اٹھایا لیکن آج ہم پر الزام لگاتے ہیں، ہم کوئی دودھ کے دھلے نہیں ہیں بلکہ ناتواں انسان ہیں لیکن نواز شریف کی قیادت میں ہم اور ہماری ٹیم نے دن رات محنت کرکے پاکستان کو بدلا، جس کا گواہ پورا پاکستان ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ بتایا جائے کہ مالم جبہ کا کیس کیوں نہیں کھلا، عمران خان نیازی کے خلاف ہیلی کاپٹر انکوائری کا کیا بنا، چینی، گندم، ادویات و دیگر بڑے اسکینڈلز جو موجودہ حکومت کی دور میں بنے اس کا کیا ہوا، آپ بھلے کاروباری افراد کو ہراساں کریں لیکن چینی اسکینڈلز کے اصل ملزم عمران خان اور پنجاب کے وزیراعلی ہیں لیکن آج تک کسی نے پوچھا تک نہیں اور آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ وہ مثال ہے کہ فیس نہیں کیس کو دیکھتے ہیں، اگر ایسا ہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے تھا۔

معیشت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلدیہ فیکٹری جیسا حادثہ خدانخواستہ ہماری معیشت سے ہونے جارہا ہے، جو کچھ ملک میں ہورہا ہے،اس میں بہتری نہیں آئی تو پاکستان کی معیشت کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔

پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم اس پر آواز اٹھاتے رہے ہیں اور آگے بھی رہیں گے، اس کے لیے ہمیں یا مجھے جیل جانا پڑا تو یہ کوئی بڑی قیمت نہیں، اس راستے سے ہم پہلے بھی گزر چکے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے بیٹیوں کے ساتھ نہیں جانا پڑا تھا لیکن اب وہ وقت بھی آگیا ہے کہ قوم کی ماوں اور بیٹیوں کو بھی عدالتی کٹہرے میں کھڑا کیا جارہا ہے لیکن ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے 56 کمپنیوں کی تحقیقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج سوا 2 سال گزر گئے ہیں لیکن یہ کمپنیاں کہاں ہیں، ان کمپنیوں سے اربوں، کھربوں کی سرمایہ کاری ہوئی جس میں بجلی کے منصوبے، میٹرو بس، اورنج لائن و دیگر منصوبے شامل ہیں لیکن یہ ایک دھیلے کی کرپشن سامنے نہیں لاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر میرے قبر میں جانے کے بعد بھی میرے خلاف پبلک فنڈ میں کرپشن کا ایک دھیلا بھی نکل آئے تو میری لاش کو نکال کر پول پر لٹکا دیا جائے، یہ بات میں تب کر رہا ہوں جب انتقام کی انتہا ہے، اب ایف آئی اے اور آئی بی بہت متحرک ہے اور لوگوں کو گھروں پر جاکر تنگ کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود بھی میں یہ کہتا ہوں کہ قیامت تک یہ میرے خلاف یہ ایک ثبوت لے آئیں تو آپ مجھے معاف نہیں کریے گا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *